بین الاقوامی قرآنی نمایش کا آغاز جلد ہوگا

IQNA

حجت‌الاسلام ارباب‌سلیمانی

بین الاقوامی قرآنی نمایش کا آغاز جلد ہوگا

10:17 - January 21, 2026
خبر کا کوڈ: 3519814
ادارہ قرآن و عترت مرکز کے سربراہ کے مطابق تینتیسویں بین الاقوامی قرآنی نمائش فروری میں ہوگی جسمیں نہج البلاغہ اور صحیفہ سجادیہ محور ہوگا۔

ایکنا نے وزارتِ ثقافت و اسلامک گائیڈنس کے مرکزِ عالیِ قرآن و عترت کے سربراہ حجت‌الاسلام والمسلمین حمیدرضا ارباب‌سلیمانی سے ایک گفتگو میں بین الاقوامی قرآنِ کریم نمائش کے اس دور کی نمایاں جہات پر روشنی ڈالی ہے، جس کا متن ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

ایکنا: بین الاقوامی قرآنِ کریم نمائش کے انعقاد میں اب تقریباً ایک ماہ باقی ہے۔ اس سال کی نمائش کی اہم خصوصیات اور گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں فرق کیا ہے؟ منصوبہ بندی کے مطابق، اسفند کے آغاز سے، جو ماہِ مبارک رمضان کے ساتھ متقارن ہے، ہم تیس ویں (33ویں) بین الاقوامی قرآنِ کریم نمائش کے انعقاد کے گواہ ہوں گے۔ اس دور کی ایک بنیادی خصوصیت قرآنِ کریم کے ساتھ ساتھ نہج البلاغہ اور صحیفۂ سجادیہ پر بیک وقت توجہ دینا ہے۔ نہج البلاغہ کو “اخُ القرآن” اور صحیفۂ سجادیہ کو “اختُ القرآن” کے عنوان سے جانا جاتا ہے، اور یہ دونوں قرآنِ کریم کے ہمراہ ایسے قیمتی مصادر ہیں جو مل کر دینی معارف کا ایک مکمل اور جامع نظام سامعین کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔ ان تینوں مصادر پر خصوصی توجہ دینا اس سال کی نمائش کا ایک نمایاں امتیاز ہوگا۔

ایکنا: نمائش کے بین الاقوامی حصے کے لیے کیا منصوبے بنائے گئے ہیں؟ بین الاقوامی حصے میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک موجود تمام صلاحیتوں سے بہتر انداز میں استفادہ کیا جائے۔ پہلی مرتبہ ماہرین اور اس شعبے کے فعال افراد کی مشاورت سے بین الاقوامی حصے کے لیے ایک واضح روڈ میپ تیار کیا گیا ہے، تاکہ قرآنی نخبگان کی باہمی فکر و تعاون سے ایک منظم، مؤثر اور بین الاقوامی قرآن نمائش کے شایانِ شان پروگرام پیش کیا جا سکے۔

ایکنا: اس سال کی نمائش میں بچوں اور نوجوانوں کا مقام کیا ہے؟ اس سال کی نمائش کے اہم محوری نکات میں بچوں، نوجوانوں اور جوانوں پر خصوصی توجہ شامل ہے۔ ان عمرانی گروہوں کے لیے الگ اور مخصوص حصے مقرر کیے گئے ہیں تاکہ ان کی ذوق اور فہم کے مطابق زبان اور ذرائع کے ذریعے قرآن سے گہرا تعلق قائم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ممتاز قرآنی شخصیات کی موجودگی میں قرآنی محافل، تلاوت کی نشستیں (کرسی‌های تلاوت) اور متنوع ترویجی پروگرامز بھی ترتیب دیے گئے ہیں۔

ایکنا: ترجمہ اور قرآنی تحقیق کے میدان میں کیا اقدامات کیے جائیں گے؟ ترجمے کے شعبے میں ان تراجم پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جو اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصے میں تیار ہوئے ہیں۔ ان تراجم کا جائزہ اور تجزیہ کیا جائے گا اور بالآخر قرآنِ کریم، نہج البلاغہ اور صحیفۂ سجادیہ کے منتخب و بہترین تراجم متعارف کرائے جائیں گے، نیز ان کے مؤلفین و مترجمین کی حوصلہ افزائی کی جائے گی تاکہ یہ علمی سرمایہ بہتر انداز میں عام لوگوں تک پہنچ سکے۔

ایکنا: حالیہ واقعات اور قرآن و مساجد کی بے حرمتی کے تناظر میں، اس سال کی نمائش کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟ یقیناً قرآن نمائش عوام کے قرآن سے گہرے تعلق کی ایک روشن تصویر پیش کر سکتی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ جس طرح گزشتہ سال عوام کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آئی تھی، اسی طرح اس سال بھی موجودہ حساس حالات کے پیشِ نظر عوام کی شرکت مزید زیادہ اور بامعنی ہوگی، اور یہ شرکت معاشرے کے عمومی ماحول میں قرآن کے مقام کو مضبوط بنانے میں مؤثر ثابت ہوگی۔

نظرات بینندگان
captcha