
پاکستان کی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو دی جانے والی دھمکیوں پر اسلام آباد کے محتاط رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے واضح ردعمل کا مطالبہ کیا ہے اور خاموشی کو پاکستان کے قومی مفادات کے منافی قرار دیا ہے۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اپنے پہلے خطاب میں ایران کے خلاف امریکی دھمکی آمیز بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ وہ قوموں کے مستقبل کے بارے میں فیصلے کرے؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کون سا قانون، کون سا اخلاقی اصول اور کون سا بین الاقوامی ضابطہ ایسے طرزِ عمل کی اجازت دیتا ہے۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ آج کی دنیا کو طاقت کے خمار میں مبتلا افراد کے بجائے دانشمندانہ قیادت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دھونس، دھمکی اور جارحیت کبھی بھی بین الاقوامی مسائل کا حل نہیں ہو سکتیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے نازک اور خطرناک عالمی حالات میں خاموشی اختیار کرنا پاکستان کے قومی مفادات کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ سفارتی سطح پر قائدانہ کردار ادا کرے اور خطے کے ہمسایہ ممالک کا ایک سنجیدہ اور بامقصد اجلاس بلائے، تاکہ امن، قومی خودمختاری اور باہمی احترام کے اصولوں کو فروغ دیا جا سکے۔
اپوزیشن لیڈر نے حالیہ واقعات کے تناظر میں ایران کے خلاف مغربی میڈیا کی جانب سے پھیلائی جانے والی مبینہ جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کی بھی مذمت کی۔
انہوں نے پاکستانی میڈیا پر زور دیا کہ وہ ایران سے متعلق خبروں میں مغربی ذرائع پر اندھا اعتماد کرنے کے بجائے حقائق پر مبنی رپورٹنگ کو ترجیح دے۔
اپنے بیان کے اختتام پر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ طاقت کی زبان کے مقابلے میں عقل، قانون اور مکالمے کی زبان کو فروغ دیا جائے، کیونکہ یہی خطے اور دنیا کے مفاد میں ہے۔
mehrnews