
ایکنا نیوز- عراق کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ مکہ مکرمہ کے قرآنِ کریم میوزیم میں تاریخی اہمیت کے حامل قرآنِ مجید کے نادر ترین نسخوں میں سے ایک، جسے «مصحفِ کوفی» کہا جاتا ہے، نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ یہ نسخہ قرآنِ کریم کی تدوین کے تاریخی عمل کی ایک اہم اور قابلِ قدر شہادت سمجھا جاتا ہے۔
یہ مصحف اسلامی خطاطی کے فن کے ابتدائی صدیوں میں ہونے والے ارتقا کی واضح عکاسی کرتا ہے۔
قرآنِ مجید کا یہ قدیم نسخہ دوسری یا تیسری صدی ہجری قمری، جو آٹھویں یا نویں صدی عیسوی کے مساوی ہے، سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ خطِ کوفی میں جانور کی کھال (چمڑے) پر تحریر کیا گیا ہے، جو مصاحف کی کتابت میں استعمال ہونے والے قدیم ترین مواد میں شمار ہوتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ مصحف افقی انداز میں مرتب کیا گیا ہے، جو قرآنِ کریم کی ابتدائی کتابت میں رائج تھا اور اس دور کی فنی و جمالیاتی خصوصیات کی نمائندگی کرتا ہے۔
یہ قرآنی نسخہ سورۂ آلِ عمران کی آیت ۵۰ سے شروع ہو کر سورۂ عبس کے اختتام تک پر مشتمل ہے، اور ان جزوی مصاحف کی ایک نمایاں مثال ہے جو ابتدائی اسلامی ادوار میں رائج تھے۔
اس نوعیت کے مصاحف تعلیمی مقاصد، قرآنِ کریم کے حفظ، اور علما و طلبۂ علومِ دینی کے درمیان مطالعہ اور تداول کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔
اس مصحف کی نمائش مکہ مکرمہ کے قرآنِ کریم میوزیم کے اس مشن کے تحت کی گئی ہے جس کا مقصد قرآنی نوادرات اور نادر مخطوطات سے روشناس کرانا ہے، تاکہ زائرین قرآنِ مجید کی تاریخ، عربی خط کے ارتقائی مراحل اور صدیوں پر محیط مسلمانوں کی اُن کاوشوں سے آگاہ ہو سکیں جو انہوں نے قرآنِ کریم کی حفاظت اور نہایت خوبصورت انداز میں اس کی کتابت کے لیے انجام دیں۔ یہ اقدام «منطقۂ ثقافتی حراء» میں آنے والے زائرین کے ثقافتی اور فکری تجربے کو مزید تقویت دیتا ہے۔
4329829