
ایکنا نیوز- کربلاء الآن نیوز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حرمِ مطہر امام حسینؑ میں اٹھارویں بین الاقوامی ثقافتی فیسٹیول "بہارِ شہادت" کا باقاعدہ آغاز ہو گیا، جس میں اعلیٰ دینی مرجعیت کے نمائندے اور ۵۰ ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اس فیسٹیول کی افتتاحی تقریب امام حسینؑ کے یومِ ولادت کے موقع پر منعقد ہوئی، جس میں عراق کے اندر اور باہر سے مذہبی و ثقافتی شخصیات اور وفود نے حصہ لیا۔
سید مرتضیٰ کشمیری، جو امریکہ اور یورپ میں اعلیٰ دینی مرجعیت کے نمائندے ہیں، نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ کربلا محض ایک جغرافیائی مقام یا تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک زندہ پیغام، ایک تحریک اور ایک عالمی انسانی منصوبہ ہے۔
یہ باتیں حرمِ مطہر امام حسینؑ میں منعقد ہونے والے اٹھارویں بین الاقوامی ثقافتی فیسٹیول بہارِ شہادت کی افتتاحی تقریب کے دوران کہی گئیں، جس میں شیخ عبدالمہدی الکربلائی (اعلیٰ دینی مرجعیت کے نمائندے) سمیت ۵۰ ممالک سے تعلق رکھنے والی مذہبی اور جامعاتی شخصیات شریک تھیں۔
امریکہ اور یورپ میں اعلیٰ دینی مرجعیت کے نمائندے نے کہا کہ امام حسینؑ اور ان کے اہلِ خانہ کی شہادت امت کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ تھی اور یہ اصلاح، عدل، آزادی اور انسانی وقار کے لیے جدوجہد کی ایک روشن مثال ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کربلا صرف ایک مقام یا تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک زندہ پیغام ہے۔ یہ شہر عالمِ تشیع کے لیے ایک روحانی، فکری اور ثقافتی مرکز بن چکا ہے، خصوصاً اربعین جیسے کروڑوں افراد پر مشتمل اجتماعات کے ذریعے، جو ایک تمدنی مظہر کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں اور حسینی اقدار سے وابستگی اور وفاداری کی عکاسی کرتے ہیں۔
سید مرتضیٰ کشمیری نے کہا کہ کربلا مختلف گروہوں، شیعہ، مسلمان اور غیرمسلمان کو عدل اور انسانی وقار کی اقدار کے گرد جمع کرتا ہے اور مشترکہ انسانی اصولوں پر مکالمے اور ہم آہنگی کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تحریکِ حسینی کے اصولوں کا احیاء محض تقریبات تک محدود نہیں بلکہ انہیں ہماری روزمرہ زندگی میں عملی معیارات میں ڈھالنے سے تعلق رکھتا ہے، جیسے سماجی انصاف، ناانصافی کے خلاف جدوجہد اور انسانی وقار کا تحفظ۔
کشمیری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حرمِ حسینی اور حرمِ عباسی اس پیغام کو مضبوط بنانے اور کربلا کے مقام کو ایک پائیدار عالمی منصوبے میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، خصوصاً وحدت پر مبنی بیانیے، ثقافتی اقدامات کی حمایت اور مختلف قوموں و مسالک کے درمیان مکالمے کے ذریعے۔
انہوں نے کہا کہ شیخ عبدالمہدی الکربلائی کی خدمات بے حد ہیں اور وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے خود کو اور اپنے وقت کو دین، ایمان اور حرمِ مطہر امام حسینؑ کی خدمت کے لیے وقف کر رکھا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پوپ کی اعلیٰ دینی مرجعیت سے ملاقات کے بعد دنیا کی توجہ مرجعیتِ اعلیٰ، آیت اللہ سید علی حسینی سیستانی کی جانب مبذول ہوئی، اور ان واقعات کے بعد شیعہ شناخت عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جس کے نتیجے میں لوگ شیعوں اور دینی مراجع کے بارے میں سوالات کرنے لگے ہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ فیسٹیول بہارِ شہادت کے ضمن میں بیسویں بین الاقوامی کربلا کتاب نمائش اور امام حسینؑ کی حیاتِ مبارکہ پر علمی نشستیں بھی منعقد کی جا رہی ہیں۔