سڈنی میں مسلم فوبیا اور نفرت انگیز جرائم پر انتباہ

IQNA

سڈنی میں مسلم فوبیا اور نفرت انگیز جرائم پر انتباہ

11:11 - January 27, 2026
خبر کا کوڈ: 3519839
سڈنی کی جامع مسجد کو دھمکی آمیز خط ملنے پر اسلام فوبیا پر نگرانی کرنے والی تنظیم نے خبردار کیا ہے۔

ایکنا نیوز- 9 نیوز کے مطابق سڈنی میں واقع لاکمبا مسجد، جو آسٹریلیا کی سب سے بڑی مسجد ہے، کو گزشتہ روز ایسے دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں مسلم اقلیت کے خلاف کھلے اور براہِ راست تشدد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

یہ دھمکی آسٹریلیا اسلاموفوبیا رجسٹری (IRA) کی جانب سے منظرِ عام پر لائی گئی، جس نے اس خط کو انتہائی تشویشناک قرار دیا۔ ادارے کے مطابق، یہ ایک ہاتھ سے لکھا ہوا خط تھا جو مسجد کے امام جماعت کے نام ڈاک کے ذریعے بھیجا گیا۔

 IRA نے تصدیق کی ہے کہ اس خط میں واضح تشدد کی دھمکیاں، براہِ راست اشتعال انگیزی، نفرت انگیز زبان اور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے قتل کی اپیل شامل تھی۔

نشانہ بنائے گئے افراد کی فہرست میں مسلمان، آسٹریلیا کے مقامی باشندے، ٹورس اسٹریٹ جزائر کے رہائشی، نیز عرب اور فلسطینی شامل تھے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ اس خط کا سب سے سنگین پہلو یومِ آسٹریلیا کے مظاہرین کو سڑکوں پر مار مار کر ہلاک کرنے کی کھلی اپیل ہے۔

خط میں موقع ملنے پر قتل کی دھمکیاں اور اغوا کی جانب اشارے بھی شامل تھے، جو تشدد پر اکسانے کے واضح ارادے کو ظاہر کرتے ہیں۔

آسٹریلیا اسلاموفوبیا رجسٹری نے اعلان کیا ہے کہ اس معاملے کو تحقیقات اور خطرے کے جائزے کے لیے پولیس اور متعلقہ سرکاری اداروں کو بھیج دیا گیا ہے۔

یہ واقعہ ایک شدید سیاسی کشیدگی کے ماحول میں پیش آیا ہے، بالخصوص یہود دشمنی، نفرت انگیزی اور انتہاپسندی 2026 کے بل پر پارلیمانی مباحث کے بعد، جس کے بارے میں تنظیم کا کہنا ہے کہ اس میں ایسی سیاسی زبان استعمال کی گئی ہے جو مسلم برادریوں کو سلامتی کے لیے خطرہ بنا کر پیش کرتی ہے۔

دوسری جانب، مریم ویس‌زادہ، آسٹریلیا اسلاموفوبیا رجسٹری کی سربراہ نے اس خط کو تشدد اور قتل کے لیے ایک واضح اور کھلی اپیل قرار دیا اور خبردار کیا کہ غیرذمہ دارانہ سیاسی بیانات اگر قابو میں نہ لائے گئے تو انتہاپسند عناصر کو مزید حوصلہ دیتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ لوگوں کو سڑکوں پر مار مار کر ہلاک کرنے کی اپیل عوامی سلامتی کے لیے ایک سنگین اور فوری خطرہ ہے۔

اسی تناظر میں، نیو ساؤتھ ویلز کے وزیرِاعلیٰ کرس مینز نے ایک سرکاری ردِعمل میں تصدیق کی کہ وہ اس خط سے آگاہ ہیں، اور اس بات پر زور دیا کہ نسل پرستانہ اشتعال انگیزی یا تشدد کی کسی بھی دھمکی کو پولیس نہایت سنجیدگی سے لیتی ہے.

نظرات بینندگان
captcha