جاپان میں نماز خانوں کو وسعت دینے کا پروگرام

IQNA

جاپان میں نماز خانوں کو وسعت دینے کا پروگرام

11:14 - January 27, 2026
خبر کا کوڈ: 3519841
مسلمانوں کی بڑھتی تعداد میں سیاحت کے پیش نظر عمومی مقامات میں نماز خانوں کی تعداد کو بڑھانے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔

ایکنا نیوز- کیوڈو نیوز کے مطابق جیسے جیسے جاپان میں مسلم سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، ایک سوال تیزی سے اہمیت اختیار کر رہا ہے: یہ مسافر نماز کہاں ادا کریں؟

گزشتہ سال جاپان آنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد نے نیا ریکارڈ قائم کیا، جن میں ان خطوں سے آنے والے سیاح بھی شامل تھے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ یہ سیاح جاپان کے کھانوں، عوامی ثقافت (پاپ کلچر) اور موسمی مناظر کی وجہ سے اس ملک کی طرف راغب ہوئے ہیں۔

جاپان نیشنل ٹورازم آرگنائزیشن کے مطابق، صرف گزشتہ سال جنوری سے نومبر کے درمیان تقریباً 5 لاکھ 60 ہزار سیاح انڈونیشیا سے، 5 لاکھ 40 ہزار ملائیشیا سے اور 2 لاکھ 40 ہزار مسافر مشرقِ وسطیٰ سے جاپان آئے۔ تاہم، بہت سے سیاحوں کے لیے ایسے ملک میں جہاں مخصوص مذہبی سہولیات یکساں طور پر دستیاب نہیں، روزانہ نماز کی ادائیگی سفر کے تجربے کو مشکل بنا دیتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مسئلہ بڑے مساجد کی تعمیر سے زیادہ لچکدار طرزِ عمل اختیار کرنے کا ہے۔ جاپان ٹورازم ایجنسی نے مسلم سیاحوں کی خدمت سے متعلق ایک رہنما ہدایت نامہ جاری کیا ہے، جس میں ہوٹلوں، ٹرانسپورٹ مراکز اور تجارتی مراکز کو ترغیب دی گئی ہے کہ جہاں ممکن ہو، نماز کے لیے پُرسکون اور صاف جگہیں مختص کی جائیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جن مقامات پر باقاعدہ نماز کے کمرے بنانا ممکن نہ ہو، وہاں عارضی پارٹیشنز، واضح رہنمائی بورڈز یا عملے کی آگاہی جیسے سادہ انتظامات بھی نمایاں فرق پیدا کر سکتے ہیں اور جاپان کو ایسی مہمان نوازی کی تصویر پیش کرنے میں مدد دے سکتے ہیں جو ثقافت سے بھی آگے ہو۔

گزشتہ سال اوزاکا میں منعقدہ عالمی نمائش (ایکسپو) میں، جہاں بڑی تعداد میں مسلم زائرین اور کارکنان موجود تھے، تقریب کے مرکزی مقام میں جنگلِ سکون کے قریب ایک نماز گاہ قائم کی گئی تاکہ ان افراد کی ضروریات پوری کی جا سکیں جو روزانہ پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کے پابند ہیں۔

اسی طرح بڑے ہوائی اڈوں اور اہم شہروں میں بھی نماز گاہوں کی دستیابی میں اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر، ٹوکیو کے ہاندا ہوائی اڈے نے 2014 میں بین الاقوامی پروازوں کے لیے مخصوص ٹرمینل 3 میں ایک نماز گاہ قائم کی۔ اس کے آپریٹر کے مطابق، مالی سال 2024 میں اوسطاً ہر ماہ تقریباً 2000 افراد نے اس سہولت سے استفادہ کیا۔

ٹوکیو اور اوزاکا کے JR ریلوے اسٹیشنوں میں بھی نماز گاہیں نصب کی گئی ہیں، جبکہ مقامی حکومتوں اور کمپنیوں نے کیوٹو اور نارا جیسے سیاحتی مقامات میں اسٹیشنوں کے اطراف نماز کی سہولیات فراہم کی ہیں۔

تاہم، جگہ کی کمی اور کم طلب جیسے عوامل کے باعث، جاپان کے مغربی اور جنوب مغربی علاقوں جیسے شیکوکو اور کیوشو میں واقع اسٹیشنوں پر نماز کی سہولیات محدود ہیں۔

ہیروفومی تانادا، واسدا یونیورسٹی کے ریٹائرڈ پروفیسر اور جاپان میں مسلم امور کے ماہر، کا کہنا ہے کہ سفر کے دوران نمازوں کی تعداد اور ان کے اوقات افراد کے درمیان بہت مختلف ہو سکتے ہیں۔ وہ مشورہ دیتے ہیں کہ سہولیات محدود ہونے کی صورت میں بھی لچکدار رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

اسی طرح، آکیکو کومورا، رِکّیو یونیورسٹی کی مدرس نے کہا کہ مقامی مسلم برادری کو شامل کرنا اور قابلِ رسائی مقامات کی نشاندہی کے لیے باہمی تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسے ایک موقع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے تاکہ جاپان بھر میں مسلمانوں کو درپیش زمینی حقائق کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

نظرات بینندگان
captcha