كيتھولك فرقے كے روحانی پيشوا پوپ بينڈيكٹ نے ريجنز برگ يونيورسٹی جرمنی میں اپنی تقرير كا آغاز يونيورسٹی میں بيتے ياد گار ايام سے كيا تو كسی نے سوچا بھی نہ تھا كہ وہ اپنی گفتگو كی بنياد صديوں پرانے ايك ايسے مكالمے پر ركھیں گے جس سے پورے عالم اسلام كی دل آزاری ہوگی اور عالم مسيحيت كے یہ سب سے جيد روحانی پيشوا پندرہویں صدی عيسوی كے بازنكلينی شہنشاہ كے الفاظ كا سہارا ليتے ہوۓ مقدسات اسلام كے متعلق انتہائ معاندانہ الفاظ دہراﺋیں گے-
معاصر ویٹی كن كی تاريخ میں پہلی بار پوپ جيسے با عظمت اور مقدس منصب كو توہين رسالت اور اسلام كےخلاف ہرزہ سرائ كےلیے استعمال كيا گيا-
۱: اس تقرير كا عنوان Faith and reason ، ايمان اور عقلانيت تھا اور ویٹی كن حكام كے بقول پوپ كے بيان كا سياق و سباق الگ كركے سخت تنقيد كا نشانہ بنايا گيا
كسی مكالمے كا بطور مستند نقل كرنا اس كی تصديق اور تاﺋيد ہوا كرتی ہے اور پھر اس مكالمہ كو انتہائ اہميت كے ساتھ تقرير كے آغاز و اختتام دونوں میں دھرايا گيا –
۲: ویٹی كن كی جانب سے كہا جارہا ہے كہ اس كا حوالہ دينے كامقصد علمی تناظر میں مذہب اور تشدد كے درميان تعلق پر عمومی طور پر كچھ خيالات كا جاﺋزہ لينا تھا اور سختی سے اس سوچ كو مسترد كرنا تھا كہ مذہب میں تشدد كا جواز تلاش كيا جاسكتا ہے –
ليكن عجيب بات یہ ہے كہ خود اسلام كے خلاف تشدد كی زبان استعمال كررہے ہیں اور كسی روحانی پيشوا سے جديد ترين تشدد violence ممكن ہے وہ یہ كہ ديگر مذاہب كےپيروكاروں كے احساسات كو مجروح كيا جاۓ اور انكے مقدسات پر بے بنياد حملے كیے جاﺋیں-
نجانے بشريت كو عقلانيت كی دعوت دينے والے پوپ كے یہاں یہ تناقض كتنا عقلانی ہے كہ بد ترين تشدد كے ذريعہ تشدد كے خلاف آواز اٹھائ جاۓ اور مسلمانوں كے خلاف یہ تشدد كرتے ہوۓ اپنی ہی تقريری كے یہ الفاظ كيوں انكے مد نظر نہ رہے –
Violence is incompatible with the nature of god and the nature of the soul
۳: پوپ سورہ بقرہ كی آيت ۲۵۶ كا حوالہ دينے كے بعد كہتے ہیں در حقيقت یہ آيت آنحضرت كے ابتدائ ايام كی ہے جب وہ كمزور اور خطرے میں تھے ليكن بعد میں طاقت آنے پر جہاد كے احكام جاری ہوگۓ-
اس كے جواب میں مختصرا یہ ہے كہ اس میں اور مدنی آيات میں فرق كی وجہ آنحضرت كی كمزوری يا طاقت ور ہوجانا نہیں ہے بلكہ جہاد كی آيات كا مدنی ہونا اس لیے ہے كہ اسلامی رياست قاﺋم ہونے كے بعد رياست اور اس كے عوام كی حفاظت كےلیے دفاعی قوانين كا وضع ہونا انتہائ طبعی اور عقلانی امر ہے كوئ بھی رياست اپنے دفاعی نظام كے لیے چارہ انديشی كے بغير قاﺋم نہیں رہ سكتی –اور اپنا دفاع ايك مسلمہ انسانی اور عقلانی حق ہے
یہ بھی ياد رہے كہ قرآن میں نظام ناسخ و منسوخ ہونے كے باوجود یہ آيت منسوخ نہیں ہوئ اور اس آيت شريفہ كا مضمون اس سنت الہی كا بيان ہے جس پر تمام اديان سماوی كا اتفاق ہے كہ خدا نے بشر كو حق انتخاب ديا ہے اور كوئ اكراہ نہیں ہے اور اگر اكراہ سے مراد نظام يا رياست ہو تو یہ بات اظہر من الشمس ہے كہ اعتقاد اور ايمان حقيقی پر اكراہ اور مجبور كرنا ممكن نہیں ہے –كيونكہ ايمان امر قلبی ہے-
۴: پوپ نے آنحضرت ۖ اور اسلام كے متعلق معاندانہ گستاخی كےلیے جوكسی طرح سےبھی كیھتولك كے رياست عامہ كے عالی مقام كےشايان شان نہ تھا بازنيكلی بادشاہ مينويل دوم كے ان الفاظ كا سہارا ليا
Show me what mohmmad brought that was new ,and there you will find things only evil and inhvnam ,such as his command to spread by the sword the faith be preached.
اولا :یہ سراسر بے بنياد الزام ہے اور تمام تاريخی حقاﺋق كے بر خلاف ہے كہ آنحضرتۖ نے تلوار كے زور پر اپنا پيغام عام كيا
اس پر دليل آنحضرتۖ كے زمانہ حيات میں جتنی جنگیں لڑی ﮔﺋیں ،ان تمام حادثات ،واقعات اور غزوات میں پانچ سو سے كم افراد مارے گۓ جن میں كوئ بچہ نہ تھا اور بہت كم خواتين تهیں –
جبكہ تاريخ بشريت میں سب سے زيادہ خونريزی بربريت اور تشدد سفيد فام عيسائ مغرب نے كيا ہے ،جسے پوپ عقلانيت مسيحيت كا مظہر قرار ديتے ہیں اور فخر سے كہتے ہیں كہ پوپ میں دنياۓ مسيحيت نے فلسفہ يونان سے مل كر اپنی سرنوشت ساز ماہيت كو تشكيل ديا-
This conversence ,with the sobseqvent addition of the roman heritage ereated eorope
جبكہ اس يورپ نے صليبی جنگوں ،پہلی جنگ عظيم ،دوسری جنگ عظيم ،تيسری دنيا كے خلاف جنگ انكی غلامی ،بوسنيا ،جنگ عراق ،افغانستان ،لبنان ،فلسطين میں خونريزی اور ظلم و بربريت كے ريكارڈ قاﺋم كیے اس كے سامنے چنگيز و ہلاكو كے كارنامے ھيچ ہیں ليكن وہ بدنام ہیں اور یہ نيكو نام
ثانيا :اسی تقرير میں پوپ كے اس بيان پر غور كيجۓ
Faith is born of the sool not the body ,whoever would lead someone to faith needs the abilityto speak weel and to reason properly.
جب یہ بات طے ہے كہ ايمان كو تشدد اور روك سے نہیں عام نہیں كيا جاسكتا تو اسلام كے بارے میں یہ تناقض گوئ كيسی ؟اور عقلانيت سے دوری كا یہ الزام كيسا؟وہ اسلام جس نے كرہ ارض كےہر خطے میں ہر رنگ و نسل سے تعلق ركھنے والے بے شمار انسانوں كے دلوں كو نسل در نسل نور ايمان سے منور كيا ،كيسے ممكن ہے كہ تشدد كے ذريعہ يا تلوار كے بل بوتے پر ہوا ہو –یہ الزام لگاتے ہوۓ بينڈيكٹ سميت مغربی فلاسفر اور سكالر یہ مسلمہ حقيقت كيوں بھول جاتے ہیں كہ تشدد كے ذريعہ كسی بھی دل میں شمع ايمان كو روشن نہیں كيا جاسكتا
۵: پوپ نے اپنی اس تقرير كا اصل مقصد مذاہب كے درميان افہام و تفہيم كوفروغ دينا قرار ديا كہ ہم اديان كے درميان پل بنانا چاہتے ہیں ديوار نہیں Butldis bridges not wall ليكن بين المذاہب اور بين الثقافتی مكالمے كےلیے شرط اول ديگر مذاہب كے مقدسات كا احترام ہے تاكہ تہذيبوں كے تصادم سے اجتناب كيا جاسكے
در حقيقت اس تقرير میں پوپ ،ویٹيكن كی تقريب بين المذاہب و الاديان كی گذشتہ پالسيوں كے بر خلاف تہذيبوں كے درميان تصادم كے خواہان بعض طاقتور عناصر كے ہم خيال نظر آتے ہیں-
یہ عناصر حال ہی میں پادريوں اور عام عيساﺋيوں كی جانب سے حزب اللہ كی حمايت سے دنيا بھر میں بين المذاہب ہم آہنگی كے قيام كے لیے ايك خوشگوار اورقابل تقليد مثال كو سبوتاژ كرنا چاہتے ہیں-
وگرنہ اسلام كا سرسری مطالعہ كرنے والا بھی جانتا ہے كہ قرآن بار بار تعقل ،تفكر اور عقلانيت كی دعوت ديتا ہے –قرآن میں عقل ۴۹ دفعہ،تفكر ۲۲ دفعہ اور علم كے بارے میں ۷۷۹ مختلف سورتوں میں تاكيد آئ ہے –كتب احاديث میں فضل و كرامت اور شرافت عقل پر ابواب درج ہیں اور عقل احكام الہی اور ارادہ خداوندی كو كشف كرنے كا ذريعہ ہونے كے ناطے ادلہ اربعہ میں سے ايك اہم ترين دليل ہے
عقل و عقلانيت كو یہ شرف كسی بھی دين و آﺋين میں حاصل نہیں ہے –
۶: پوپ نےايك شہنشاہ كی زبان كا سہارا ليتے ہوۓ اسلام كے خدا كو ايك غيرذمہ دار ،اعتراض و سوال اور عقلانيت سے ماورا قرار ديا
But for muslim teachis god is absolately transcendent, his will is not bound up with any of our catagaries
پوپ كا مسلمانوں كے خدا كے بارے میں یہ تأثرات جہالت كی بنا پر نہیں بلكہ تجاہل ہے –ہر مذہب میں ايسے شاذ و نادر اور غير مقبول آراء پائ جاتی ہیں ليكن اسے تمام اہل مذہب سے نسبت دينا علمی خيانت ہے –
اديان كا ہر طالب علم بخوبی جانتا ہے كہ علم كلام میں حسن و قبح ،عدل الہی ايك مفصل باب ہے اور تاريخ كلام اسلامی میں اشاعرہ نے اگرچہ خدا كے بارے میں پوپ كا بيان كردہ نظریہ اپنايا ،ليكن اس كے مقابل معتزلہ اور امامیہ میں اس نظریہ كو پذيرائ نہیں ہوئ-
آج عالم اسلام كے فقہا ،متكلمين ،اسكالر اور فلاسفر میں كوئ بھی اس مسألہ میں اشاعرہ كا ہمنوا نہیں ملتا
اس نسبت بے جا سے قطع نظر پوپ كی اس مضحكہ خيز خدا شناسی میں كتنی علقلانيت ہے كہ خدا كو اتنا بلند اور متعال نہ كرو كہ عقل بشری سے بالا تر ہوجاۓ –
یہ خدا اور عقل دونوں كی توہين ہے اللہ اكبر ،اور ذات اقدس كی كبريائ كامطلب یہ نہیں كہ وہ انسان سے دور ہوجاۓ (اذا سألك عبادی عنی فانی قريب ) اسلام اور قرآنی تعليمات كے مطابق خداۓ متعال اور اكبر من أن يوصف ہونے كے باوجود خالق عقل كا ہر فعل عقلانی اصول و قواعد كےمطابق ہوتا ہے –(مبشرين ومنذرين لﺋلا يكون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل )قرآن كا ارشاد ہے كہ اللہ تعالی اتمام كرنے سے پہلے كسی كو مواخذہ نہیں كرتا ،یہاں خدا اپنے لیے بھی اس عقلی قاعدے كو قابل نفوذ قرار دے رہا ہے كہ اتمام حجت كے بغير باز پرس نہیں ہوسكتی چنانچہ نبوت كی ضرورت بھی اسی عقلی اصول اور قاعدے كے تحت ہے اگر انبيا كے ذريعے حجت پوری نہ ہوئ ہوتی تو لوگوں كو یہ بات كہنے كا حق ہوتا (ربنا لو لا ارسلت الينا رسولا فنتبع آياتك)۱۳۴ طہ
(لايسأل عما يفعل و ھم يسﺋلون )قرآن میں پائ جانے والی اس قسم كی آيات كا مطلب یہ ہے كہ سوال وہاں صحيح ہوتا ہےجہاں غلط كا امكان ہو،اور كيونكہ خدا كا ہر كام مصلحت و حكمت كے عين مطابق ہوتا ہے اس لیے سوال نہیں
(و كتب ربكم علی نفسہ الرحمۃ )تمہارے رب نے رحمت كو اپنے اوپر لازم قرار ديا ہے –
اسلام اور قرآنی تعليمات كےمطابق خدا كا ہر عمل عدل،عقل اور اخلاق كے مطابق ہے بلكہ اس نے رحمت كو بھی اپنے اوپر لازم قرار ديا ہے –سبحان ربی الاعلی و بحمدہ-