الازہر نے قرآن کے گم ہونے یا اس میں غیر معتبر متون کے شامل کیے جانے کے دعووں کو مسترد کر دیا

IQNA

6:27 - August 12, 2026
خبر کا کوڈ: 3520573

الازہر نے قرآن کے گم ہونے یا اس میں غیر معتبر متون کے شامل کیے جانے کے دعووں کو مسترد کر دیا

ایکنا: مجمعِ البحوث الاسلامیہ نے سلسلۂ وار نشست «شبہات اور جوابات» کی تیسری نشست کا انعقاد کیا، جس میں قرآن کریم کی تدوین و جمع اور اس حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمیوں پر گفتگو کی گئی۔

1

ایکنا نیوز- مصراوی نیوز کے مطابق الازہر کے مجمعِ البحوث الاسلامیہ میں منعقد ہونے والی اس نشست میں طنطا کی فیکلٹی آف قرآن کے سابق سربراہ سامی عبدالفتاح ہلال اور الازہر کے مجمعِ البحوث الاسلامیہ کی اعلیٰ کمیٹی برائے امورِ دعوت کے نائب سیکرٹری جنرل حسن یحییٰ نے شرکت کی۔

سامی عبدالفتاح ہلال نے اپنے خطاب میں کہا کہ قرآن کریم کی جمع و تدوین کے حوالے سے پائی جانے والی غلط فہمیاں، جنہیں بعض مغربی تحریروں میں بھی فروغ دیا جاتا ہے، زیادہ تر قرآن کی تاریخ میں مبینہ ابہام اور اس کی تدوین میں تاخیر کے دعووں پر مبنی ہیں، جبکہ یہ دعوے معتبر تاریخی شواہد پر قائم نہیں ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ بعض مستشرقین کا دعویٰ ہے کہ قرآن کی آیات نبی اکرم ﷺ کی نگرانی میں تحریر نہیں کی گئیں اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد قرآن کو جمع کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ دعوے ان کاتبینِ وحی کے کردار کو نظرانداز کرتے ہیں جو آیاتِ قرآنی کے نزول کے وقت انہیں تحریر کیا کرتے تھے۔

سامی عبدالفتاح ہلال نے زور دے کر کہا کہ قرآن کریم مومنین کے سینوں میں محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ تحریری شکل میں بھی محفوظ رہا، اور یہی امر اس کے متن کی صحت اور درستگی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خلافتِ ابوبکرؓ کے دور میں قرآن کریم کو جمع کرنا متعدد قرآنی حفاظ کی شہادت کے بعد پیدا ہونے والی ایک فوری ضرورت کا جواب تھا۔ قرآن کو ان تحریری مواد کی بنیاد پر مرتب کیا گیا جو رسول اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں لکھے گئے تھے، اور ان آیات کی بھی تصدیق کی گئی جو صحابہ کرامؓ کے سینوں میں محفوظ تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کی تائید معتبر تاریخی روایات سے بھی ہوتی ہے۔

سامی ہلال نے قرآن کریم کے نزول میں حضرت جبرائیلؑ کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج موجود قرآن کریم، نبی اکرم ﷺ پر حضرت جبرائیلؑ کے ذریعے آیات کے نزول کے آخری مرحلے میں پیش کیے گئے حتمی متن اور نسخے کے عین مطابق ہے۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ خلافتِ عثمان بن عفانؓ کے دور میں قرآن کریم کی کتابت کو ایک معیار پر لانے کا مقصد مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور یکسانیت کو برقرار رکھنا تھا۔ ان کے مطابق یہ نسخے ان اصل صحیفوں سے نقل کیے گئے جو ازواجِ مطہرات میں سے حضرت حفصہؓ کے پاس محفوظ تھے۔

حسن یحییٰ نے بھی اس موقع پر کہا کہ قرآن کریم کی جمع و تدوین کے حوالے سے معتبر روایات صحابہ کرامؓ کی غیر معمولی احتیاط اور دقتِ نظر کو ظاہر کرتی ہیں۔ صحابہ نے صرف حافظے پر انحصار نہیں کیا بلکہ تحریری مواد کو ان آیات کے ساتھ بھی ملایا جو لوگوں کے سینوں میں محفوظ تھیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ حضرت عثمانؓ کے دور میں قرآن کریم کی تدوین و توحیدِ مصاحف کا مقصد مسلمانوں کے درمیان اتحاد برقرار رکھنا اور قراءت کے اختلافات کو روکنا تھا۔ اس اقدام کے ذریعے قرآن کے تحریری نسخوں کو ایک معیار پر لایا گیا، نہ کہ قرآن کے متن میں کسی نقص کو دور کرنے کے لیے۔

حسن یحییٰ نے اپنے اختتامی کلمات میں زور دیا کہ قرآن کریم کے کسی حصے کے ضائع ہونے سے متعلق دعوے بے بنیاد ہیں اور ان کے حق میں کوئی معتبر ثبوت موجود نہیں۔ قرآن کریم کی تاریخ حفظ اور کتابت کے ایک جامع نظام کو ظاہر کرتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ثابت شدہ تاریخی حقائق اور غلط تصورات میں فرق کرنے کے لیے معتبر مصادر سے رجوع کیا جائے۔/

 

4369176

نظرات بینندگان
captcha