ایکنا: یمن کے شہر ذمار میں قرآن کریم کی بار بار ہونے والی صہیونی-امریکی توہین کی مذمت میں ایک بڑے عوامی اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔
ایکنا نیوز- انصار اللہ کی ویب سائٹ کے مطابق یمن کے شہر ذمار میں ایک عظیم الشان عوامی اجتماع ہوا، جس کے شرکا نے قرآن کریم کی بار بار ہونے والی امریکی-صہیونی توہین کی شدید مذمت اور اسے مسترد کیا۔
اجتماع میں شریک افراد نے مقامی و انتظامی رہنماؤں اور سماجی شخصیات کے ہمراہ صہیونی حکومت سے وابستہ عناصر کی ان کارروائیوں کی مذمت کی جنہوں نے یہ اشتعال انگیز اقدام انجام دے کر دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ شرکا نے تأکید کی کہ اللہ کی کتاب کی توہین، ادیانِ الٰہی کے تقدس کی کھلی خلاف ورزی اور اسلامی مقدس مقامات کی صریح توہین ہے۔
اجتماع کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں تأکید کیا گیا کہ قرآن کریم کی حالیہ امریکی-صہیونی توہین، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف صہیونی تحریک اور اس کے کفر کے سرکردہ رہنماؤں کے ذریعے یہودیوں کی منظم اور کھلی دشمنانہ سرگرمیوں کا حصہ ہے۔
بیان کے ایک اور حصے میں کہا گیا کہ یہ اقدامات یہودیوں اور مغرب میں ان کے حلیفوں کی جانب سے صہیونیوں کے شیطانی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جس کا بنیادی ہدف امتِ مسلمہ ہے اور جو پوری انسانیت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
بیان میں سخت ترین الفاظ میں ان مذموم صہیونی-امریکی اقدامات کی مذمت کی گئی اور انہیں قرآن کریم کے خلاف جاری حملوں کے سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا گیا۔ قرآن کریم کو زمین پر مقدس ترین آسمانی کتاب قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ اقدامات قرآن کریم اور اس میں مجسم اقدار، اصول اور اخلاقیات کے ساتھ ان کی واضح اور کھلی دشمنی کو ظاہر کرتے ہیں۔
بیان میں یمنی عوام کے قرآن کریم اور اس کی مضبوط تعلیمات سے وابستگی اور فلسطین کے نصب العین کی غیرمتزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا۔ ساتھ ہی عالمی استکباری طاقتوں کے تسلط سے آزادی اور جارحیت، محاصرے اور قبضے کے خاتمے کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔/
4369623