ایکنا: جواد نصیری اوانکی نے ملک کی قرآنی طلبہ تنظیم اور ایکنا کی میڈیا، تعلیمی، تحقیقی اور اسٹوڈیو کی صلاحیتوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دونوں ادارے قرآن کے شعبے میں آن لائن سرگرم کارکنوں کو خدمات فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ایکنا کے رپورٹر کے مطابق، "حفظ قرآن کے موضوع کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن کے فروغ میں دینی بلاگرز کے عملی تجربات کا جائزہ" کے عنوان سے نشست منگل کو قومی حفظِ قرآن منصوبے کی رہنمائی کمیٹی کے تعاون سے ایکنا کی میزبانی میں منعقد ہوئی۔ نشست میں حفظِ قرآن کی رہنمائی کمیٹی کے سیکرٹری محمد مہدی بحرالعلوم، ملک کی قرآنی طلبہ تنظیم کے سربراہ اور ایکنا کے منیجنگ ڈائریکٹر جواد نصیری اوانکی، حفظِ قرآن کی رہنمائی کمیٹی کے رابطہ و نگرانی کے ذمہ دار حسین تقی پور اور سوشل میڈیا پر حفظِ قرآن کی تعلیم کے شعبے سے وابستہ متعدد کارکنوں نے شرکت کی۔
جواد نصیری نے نشست کے آغاز میں شرکا کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا: ’’مجھے خوشی ہے کہ ہمیں قرآن کے شعبے سے وابستہ اور اس حوالے سے فکرمند افراد کے ایک گروپ کے ساتھ گفتگو کا موقع ملا ہے۔ امید ہے کہ یہ نشست قرآنی اداروں اور ملک کی قرآنی طلبہ تنظیم کے درمیان مؤثر اور مستقل رابطے اور تعاون کی بنیاد بنے گی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ جیسا کہ دوست بین الاقوامی قرآنی خبررساں ادارے ایکنا کی قابلِ قدر سرگرمیوں سے واقف ہیں، یہ ادارہ قرآنی خبروں اور واقعات کی کوریج کے علاوہ مختلف شعبوں میں بھی سرگرم ہے۔ ایکنا کی سرگرمیوں کا ایک اہم حصہ قرآن اور دینی معارف سے متعلق ہے، تاہم اس کے ساتھ یونیورسٹیوں، حوزہ ہائے علمیہ، سماجی و خاندانی مسائل، ثقافت، فنون اور ادب کے شعبے بھی اس کی ترجیحات میں شامل ہیں۔
نصیری اوانکی نے مزید کہا کہ ایکنا کا ایک اور اہم شعبہ قرآن اور دین کے موضوع پر تحریری مواد اور کتابوں کی تیاری ہے۔

طلبہ کے ساتھ رابطے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’طلبہ ہمارے لیے اولین ترجیح ہیں اور تنظیم کے بنیادی مقاصد میں سے ایک طلبہ کے ساتھ اپنے رابطے کو مضبوط بنانا ہے۔‘‘
قرآنی کارکنوں کو میڈیا تعاون فراہم کرنے کے لیے ایکنا تیار
ملک کی قرآنی طلبہ تنظیم کے سربراہ نے نشست کے دوسرے حصے میں، سوشل میڈیا پر حفظِ قرآن کی تعلیم سے وابستہ کارکنوں کی گفتگو سننے کے بعد، قرآنی سرگرمیوں کی حمایت کے لیے تنظیم اور ایکنا کی موجودہ صلاحیتوں کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا: ’’ملک کی قرآنی طلبہ تنظیم اور ایکنا مختلف شعبوں میں متعدد صلاحیتوں کے حامل ہیں اور ان میں سے بعض سہولیات براہِ راست قرآنی کارکنوں کے اختیار میں دی جا سکتی ہیں۔‘‘
نصیری اوانکی نے واضح کیا کہ تنظیم اور خبررساں ادارہ اس شعبے میں جو خدمات فراہم کر سکتے ہیں، ان کا مقصد قرآنی سرگرمیوں کی حمایت اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے اور متعلقہ اداروں سے ان خدمات کے عوض کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان صلاحیتوں سے مفت اور مشترکہ تعاون کی صورت میں استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

ایکنا کے منیجنگ ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ تنظیم کی ایک اور اہم صلاحیت تعلیمی مرکز ہے۔ اگر قرآنی کارکنوں یا تعلیمی اداروں کے پاس خصوصی تربیتی کورسز کے انعقاد کے لیے کوئی تجویز یا مواد موجود ہو تو یہ کورسز تعلیمی مرکز میں منعقد کیے جا سکتے ہیں۔
حفظِ قرآن کے حوالے سے روایتی طریقۂ کار پر نظرثانی کی ضرورت
نصیری نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں کہا: ’’سوشل میڈیا، خصوصاً نوجوانوں اور نئی نسل کے ساتھ رابطے کے میدان میں، ہمیں طرزِ زندگی، رابطوں اور مخاطبین کو متوجہ کرنے کے طریقوں میں اہم تبدیلیوں کا سامنا ہے۔ اس لیے حفظِ قرآن کے حوالے سے بعض روایتی طریقۂ کار پر بھی نظرثانی کرنا ضروری ہے۔‘‘
حفظِ قرآن کے فروغ کے لیے سوشل میڈیا کی صلاحیتوں سے استفادے کی ضرورت
ایکنا کی رپورٹ کے مطابق، نشست کے دوران حسین تقی پور، حفظِ قرآن کی رہنمائی کمیٹی کے رابطہ و نگرانی کے ذمہ دار، نے حفظِ قرآن کے کلچر کو فروغ دینے کے لیے سوشل میڈیا کی صلاحیتوں سے استفادے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا: اس شعبے میں ایک مسئلہ سوشل میڈیا کی خصوصیات، مثلاً مواد کا تنوع، مختصر ویڈیوز اور تیز رفتار اشاعت، اور حفظِ قرآن کی فطرت کے درمیان تضاد ہے؛ کیونکہ قرآن حفظ کرنے کے لیے تسلسل، مسلسل مشق اور طویل مدتی سرگرمی کی ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس لیے یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ انسٹاگرام اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر اس تضاد کو کس طرح دور کیا جا سکتا ہے اور حفظِ قرآن کے فروغ کے لیے سوشل میڈیا کی صلاحیتوں سے کس طرح مؤثر فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔/
4370600