ایکنا: اسلامی ممالک نے الگ الگ بیانات جاری کرتے ہوئے کولمبیا کی جانب سے مقبوضہ گولان کے علاقے پر صہیونی حکومت کی خودمختاری تسلیم کرنے کے اقدام کی مذمت کی ہے۔
ایکنا نیوز- خبر رساں ویب سائٹ العربی الجدید کے مطابق مصر، ترکیہ، کویت، اردن، سعودی عرب اور فلسطینی اتھارٹی نے الگ الگ بیانات میں مقبوضہ شامی گولان کی پہاڑیوں پر صہیونی حکومت کی خودمختاری تسلیم کرنے کے کولمبیا کے اقدام کی مذمت کی۔
مصر کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں مقبوضہ گولان کو اسرائیلی سرزمین کا حصہ تسلیم کرنے کے کولمبیا کی حکومت کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں سے متصادم ہے اور شام کے حقوق کو نقصان پہنچاتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ فیصلہ بین الاقوامی قوانین اور اس علاقے سے متعلق قراردادوں کے منافی ہے، شام کی اپنی تمام اراضی پر اس کے قانونی اور مسلمہ حقوق کو نقصان پہنچاتا ہے اور ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔
مصری وزارتِ خارجہ نے مقبوضہ گولان سے صہیونی فوج کے انخلا کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ قبضے میں توسیع یا اس علاقے کے الحاق کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
مصر نے ایک بار پھر شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت اور گولان پر اپنی خودمختاری کے حق کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے تل ابیب سے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا۔
ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے بھی شام کی گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی حکومت کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کے کولمبیا کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے شام کی سرزمین پر صہیونی حکومت کے قبضے کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش قرار دیا۔
ترک وزارتِ خارجہ نے گولان کی پہاڑیوں کو شام کا ناقابلِ تنسیخ حصہ قرار دیا اور کولمبیا کے اقدام کو بین الاقوامی قوانین، بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 497 کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
انقرہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ شام کے جنوب، بشمول گولان کی پہاڑیوں، پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور شام کی خودمختاری و استحکام کے خلاف اسرائیلی حملوں کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔
اسی طرح کویت نے بھی کولمبیا کی جانب سے مقبوضہ شامی گولان کی پہاڑیوں پر صہیونی حکومت کی خودمختاری تسلیم کرنے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور بالخصوص 1981ء کی سلامتی کونسل کی قرارداد 497 کی خلاف ورزی ہے۔
کویتی وزارتِ خارجہ نے ایک بار پھر اپنے اس دوٹوک مؤقف کا اعادہ کیا کہ گولان کی پہاڑیاں شام کا مقبوضہ علاقہ ہیں اور ایسے ہر اقدام کو مسترد کیا جاتا ہے جس کا مقصد قبضے کو مستحکم یا اسے قانونی حیثیت دینا ہو۔
بیان میں اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق طاقت کے ذریعے کسی علاقے پر قبضہ کرنے کو تسلیم نہ کرنے کے اصول پر بھی زور دیا گیا۔
فلسطینی اتھارٹی نے بھی مقبوضہ شامی گولان پر اسرائیلی حکومت کی خودمختاری تسلیم کرنے کے کولمبیا کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور قابض اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کی ناقابلِ قبول حمایت سمجھتے ہیں۔
اردن نے بھی کولمبیا کے اس اعلان کی مذمت کی جس میں اس نے مقبوضہ شامی گولان کی پہاڑیوں پر صہیونی حکومت کی نام نہاد خودمختاری کو تسلیم کیا ہے۔
اردن کے ٹی وی چینل المملکہ کے مطابق، اردن کی وزارتِ خارجہ و تارکینِ وطن کے ترجمان فؤاد مجالی نے کولمبیا کے اس اعلان کو بین الاقوامی قوانین اور قراردادوں کے منافی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔
اردنی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین اور 1981ء کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 497 کے مطابق مقبوضہ گولان کی پہاڑیاں شامی عرب جمہوریہ کی سرزمین کا ناقابلِ تنسیخ حصہ ہیں۔
اس سے قبل عراق اور شام کی عبوری حکومت نے بھی مقبوضہ شامی گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی حکومت کی خودمختاری تسلیم کرنے کے کولمبیا کے اقدام کی شدید مذمت کی تھی۔
2019ء میں امریکہ کے بعد کولمبیا دوسرا ملک ہے جس نے مقبوضہ شامی گولان پر تل ابیب کی حکومت کی خودمختاری کو تسلیم کیا ہے۔
صہیونی حکومت نے 1967ء سے شام کے گولان کے علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہاں فوجی اڈے، بنیادی ڈھانچے اور صہیونی آبادکاروں کی بستیاں قائم کی ہیں۔
اگرچہ اقوام متحدہ مقبوضہ گولان کو شام کی سرزمین کا حصہ قرار دیتا ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران اس علاقے کو قابض اسرائیلی حکومت کے علاقے کا حصہ تسلیم کر لیا تھا۔/
4369383