سوئیڈن میں مکرر توہین قرآن کا واقعہ

IQNA

9:52 - August 16, 2026
خبر کا کوڈ: 3520591

سوئیڈن میں مکرر توہین قرآن کا واقعہ

ایکنا: گزشتہ روز صبح سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم کی جامع مسجد کے بیرونی احاطے میں قرآن کریم کے ایک نسخے کی بے حرمتی کی گئی۔ دسمبر 2025ء سے اب تک اس مسجد کے باہر قرآن کریم کی بے حرمتی کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔

1

ایکنا نیوز- الکومپس کے حوالے سے رپورٹ دی گئی ہے کہ اسٹاک ہوم کی جامع مسجد کے امام اور ڈائریکٹر محمود الخلفی نے اس واقعے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ جمعہ 23 مرداد کی صبح مسجد کے بیرونی احاطے میں قرآن کریم کے ایک نسخے کی ایک بار پھر بے حرمتی کی گئی۔

الخلفی نے فیس بک پر ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں قرآن کریم کا ایک نسخہ دکھائی دے رہا تھا جس کے سرورق میں سوراخ کیے گئے تھے اور اسے زنجیر اور تالے کے ذریعے مسجد کے باہر ایک باڑ کے ساتھ لٹکایا گیا تھا۔

امام مسجد: اسلام مخالف حملوں کا سلسلہ جاری ہے

محمود الخلفی نے بتایا کہ یہ واقعہ تقریباً صبح 11 بجے پیش آیا اور کہا کہ یہ مسجد کے سامنے قرآن کریم کے خلاف بار بار ہونے والے حملوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں ان واقعات کا مقصد قرآن کریم کی توہین کرنا، مسلمانوں کو خوفزدہ کرنا اور ان کے خلاف نفرت کو ہوا دینا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اب یہ واقعات محض انفرادی اور بکھرے ہوئے واقعات نہیں رہے، بلکہ یہ ایسے وقت میں رونما ہو رہے ہیں جب، ان کے بقول، سوئیڈن میں مسلمانوں کے خلاف نسل پرستانہ اور اشتعال انگیز بیانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

الخلفی نے سوئیڈن کے حکام اور معاشرے سے مطالبہ کیا کہ وہ ان حملوں کے خلاف واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کا مقابلہ کرنا صرف مسلمانوں کے دفاع تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق باہمی احترام، پُرامن بقائے باہمی کے اقدار کے تحفظ اور نسل پرستی، اشتعال انگیزی اور مذہبی نفرت انگیزی کو مسترد کرنے سے بھی ہے۔

اب تک پولیس کی جانب سے اس واقعے کی تفصیلات کی تصدیق یا اس کے مرتکب فرد کی شناخت کے حوالے سے کوئی باضابطہ معلومات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ سوئیڈن کی بعض انتہا پسند دائیں بازو کی جماعتیں مسلمانوں کی تحقیر پر مبنی فضا پیدا کرنے کے لیے قرآن کریم کی بے حرمتی اور نذرِ آتش کرنے جیسے اقدامات کو استعمال کرتی ہیں۔ ان کے مطابق، اس کا مقصد ملک کے بعض مسائل کو مسلمانوں کی موجودگی سے منسوب کرنا، مسلم ہجرت کو محدود کرنا اور مسلمانوں کے خلاف منفی جذبات کو فروغ دینا ہے۔/

 

4369859

نظرات بینندگان
captcha