ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا)نے اے ايف پی سے نقل كيا ہے كہ اسلامی علوم كی اعلی تعليم كے مركز كے نمايندہ فرانسيسی مسنر نے اس اسلامی علوم كی اعلی تعليم كے مركز كی تاسيس كی حمايت كرتے ہوۓ كہا: ابھی اس تعليم میں مزيد سرمایہ گزاری كے بارے میں كافی تحقيقات كی ضرورت ہے –
انہوں نے كہا:اسلام كے بارے میں صحيح آگاہی نہ ہونا باعث بنا ہے كہ یہ مذھب گوشہ نشين ہوگيا ہے-
فرانسيسی وزارت ثقافت كے مركزی ادارے كے سربراہ ٫٫دی دیہ لشی٬٬ نے بھی اس طرح كے مركز كی تاسيس كی حمايت كرتے ہوۓ مزيد كہا :میں اس بات كو ترجيح ديتا ہوں كہ فرانس كے آﺋمہ جماعت ايسی سرگرميوں میں مشغول ہوں جو اس ملك كی ثقافت سے حكايت كرتی ہوں نہ غير ملكی ثقافت-
قابل ذكر ہے كہ فرانس كے آلزاس موسول كے علاقہ میں یہوديوں اور پروٹسٹنٹ كےبہت بڑۓ گروپس آباد ہیں جن میں سے ايك لاكھ بيس ہزار مسلمان ہیں-