كابل میں اسلامی جمہوریہ ايران كے كلچرل سنٹر كے ڈائريكٹر "ناصر جہانشاہی" نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كے نامہ نگار سے گفتگو كرتے ہوئے كہا ہے كہ افغانستان كی عوام ديندار ہونے كی بناء پر ہميشہ قرآن كريم سے لگاؤ ركھتی ہے ليكن گزشتہ تيس سالوں سے اس ملك كے اندرونی حالات خراب ہونے كے باعث قرآنی سرگرميوں كو صحيح اور منظم پروگرامنگ كے تحت كنٹرول نہیں كيا گيا ہے اگرچہ چھوٹی سطح پر لوگ قرآنی سرگرميوں میں مشغول رہے ہیں ليكن حكومتی سطح پر قرآنی سرگرميوں كی سرپرستی نہیں ہے البتہ ان حالیہ چند سالوں میں قرآن كريم كے بارے میں كچھ اہم كام ہوئے ہیں ليكن ابھی مطلوبہ سطح تك پہنچنے سے بہت دور ہیں۔
انہوں نے مزيد كہا كہ افغانستان میں شيعہ اور سنی مشتركہ طور پر قرآنی سرگرميوں میں مشغول ہیں مثال كے طور پر افغانستان كے شيعوں نے قرآن كريم كے قاريوں كی بنيادی تربيت كے لئے كئی اہم اقدامات كئے ہیں۔ حفظ اور تفسير میں بھی كافی حد تك كام ہوا ہے ليكن جو چيز مہم ہے وہ یہ ہے كہ ان قرآنی سرگرميوں كو حكومتی سطح پر منظم ہونا چاہئے۔
ناصر جہانشاہی نے آخر میں كہا ہے كہ افغانستان كی عوام اب ايسے مرحلے میں ہے كہ وہ خود قرآن كريم كی ثقافت كی ترويج كر سكتے ہیں البتہ اس ملت پر ثقافتی سرمایہ كاری كے ذريعے قرآنی ثقافت كو پوری دنيا كے سماجی اداروں تك پہنچايا جا سكتا ہے۔
463975