بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كے افغانستان میں نامہ نگار كی رپورٹ كے مطابق مزار شريف میں ايرانی قونصلیٹ خانے كے كونسلر "سعيد زينتی" نے كہا ہے كہ دنيا و آخرت میں بہتر اور كامياب زندگی گزارنے كا بہترين وسيلہ قرآن كريم ہے اور اس الہی كتاب سے آگاہی كا بہترين ذريعہ تلاوت قرآن كريم كے ساتھ ساتھ مفہوم میں غوروخوض اور تدبركرنا ہے۔
انہوں نے مزيد كہا كہ قرآن كريم سے انس پيدا كر كے ہم معاشرے كی ترقی كے اسباب مہيا كر سكتے ہیں اور مزار شريف میں منعقدہ قرآنی نمائش بھی اسی ہدف كے تحت لگائی گئی ہے اور دوسرے ممالك میں اس قسم كی نمائشیں منعقد كر كے ہم اسلام اور قرآن كريم كے حقيقی چہرے سے لوگوں كو آشنا كر سكتے ہیں۔
اس پروگرام میں صوبہ بلخ كے مشير "محمد ظاہر وحدت" نے ايران اور افغانستان كے ثقافتی مشتركہ نكات كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ ايران اور افغانستان كی عوام كومشتركہ زبان، ثقافت كی بنا پر كبھی بھی ايك دوسرے سے جدا نہیں كيا جا سكتا۔
وحدت نے قرآن كريم كو پوری انسانيت كے لئے ايك الہی اور اساسی قانون قرار ديتے ہوئے كہا كہ اس الہی كتاب پر عمل كے ذريعے معاشرے میں موجود مشكلات اور بحرانوں پر قابو پايا جا سكتا ہے۔
صوبہ بلخ كے شيعہ علماء كونسل كے سربراہ حجۃ الاسلام جعفری نے اس پروگرام میں خطاب كرتے ہوئے كہا ہے كہ قرآن كريم انسانی دنيا كے گھٹاٹوپ اندھيروں میں ايك روشن چراغ ہے جس كی روشنی میں ہدايت حاصل كی جا سكتی ہے۔
466289