بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے تركی كے روزنامہ "زمان" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ تركی كی ديانت آرگنائزيشن كے سربراہ "علی بارداك اوغلو" اور برطانیہ كی "ويليز" يونيورسٹی كے پروفيسر "زغلول النجار" نے اس سيمينار كی افتتاحی تقريب سے خطاب كيا ہے۔
علی بارداك اوغلو نے كہا كہ اس سال تركی میں قرآنی موضوعات پر بہت زيادہ نشستیں منعقد ہو رہی ہیں۔
انہوں نے مزيد كہا كہ دين اسلام كی بنياد كے عنوان سے قرآن كريم باعث بنا كہ انسان اپنے آپ اور اپنے اطراف كی دنيا كو بہتر طور پر پہچان لے اور نزول قرآن كے بعد عرفانی اور تجربی علوم نے تيزی سے ترقی كی ہے اور یہ سب اس الہی كتاب كے علمی اعجاز كے كرشمے ہیں۔
اس كے بعد ولزيو يونيورسٹی كے مصری پروفيسر زغلول النجار نے تقرير كرتے ہوئے كہا كہ ديگر الہی كتابوں كے درميان قرآن كريم كو ايك خصوصی مقام حاصل ہے كيونكہ یہ واحد كتاب ہے جو تحريف سے محفوظ ہے۔
انہوں نے مزيد كہا كہ قرآن كريم، اعجاز سے سرشار ہے اور اس كی بہت سی آيات میں گہرے تفكر كی ضرورت ہے اور انسانی علم كے اضافے كے ساتھ ساتھ اس كے علمی اعجاز كے جديد حقائق نماياں ہو رہے ہیں۔
604419