لبنان میں "اسلام اور عيسائيت كے نقطہ نظر سے اعضاء كا عطیہ كرنا " كے عنوان سے سيميا ر كا انعقاد

IQNA

18:48 - February 23, 2012
خبر کا کوڈ: 2279478

لبنان میں "اسلام اور عيسائيت كے نقطہ نظر سے اعضاء كا عطیہ كرنا " كے عنوان سے سيميا ر كا انعقاد

بين الاقوامی گروپ: بيروت میں امريكن يونيورسٹی كی طرف سے ايك سيمينار كا انعقاد كيا گيا ہے جس كا موضوع "اسلام اور عيسائيت كے نقطہ نظر سے اعضاء كا عطیہ كرنا " ہے۔

ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) نے ويب سائٹ "lorientlejour"سے نقل كيا ہے كہ اس سيمينار میں لبنان كے كيتھولك انفارميشن سنٹر كے ڈائريكٹر عبدو ابوقاسم اور علامہ فضل اللہ كے انسٹی ٹيوٹ كے ڈائريكٹر سيد علی فضل اللہ كے علاوہ مختلف اسلامی سكالرز اور يونيورسٹيز كے اساتيد نے شركت كی۔
سيد علی فضل اللہ نے اپنے خطاب میں كہا : اعضاء كا عطیہ كرنا شريعت اسلامی كے منافی نہیں ہے۔ اسلام انسانوں كی مدد كرنے كی تائيد كرتا ہے بلكہ اسلامی تعليمات مسلمانوں كو دوسرے انسانوں كی مدد كرنے كی حوصلہ افزائی كرتی ہیں۔
البتہ اعضاء كے عطیہ كرنے میں خريد و فروش كا عنصر نہیں ہوناچاہئے اور اعضاء كے عطیے میں عطیہ كرنے والے كی رضا مندی شامل ہونی چاہئے۔ انہوں نے مزيد كہا اعضاء كے عطیے میں دين، نسل، مذہب، عطیہ كرنے والے كی جنس اور جس كو عطیہ ديا جارہا ہے قابل بحث نہیں ہیں۔
دوسری نشست میں لبنان كے كيتھولك انفارميشن سنٹر كے ڈائريكٹر نے كہا عيسائيت بدن كے اعضاء كی خريد و فروخت كو ممنوع قرار ديتی ہے البتہ اعضاء كو عطیہ كرنے كی مخالف نہیں ہے بلكہ اس نيك عمل كی حوصلہ افزائی كرتی ہے ۔كيونكہ دوسرے انسانوں كی مدد كرنی چاہئے در حقيقت اس مسئلے میں عيسائيت اور اسلامی تعليمات میں كوئی اختلاف نہیں ہے۔
البتہ كيتھولك عيسائيوں كی نظر میں مغز كا عطیہ كرنا جائز نہیں ہے۔
957547
نظرات بینندگان
captcha