مسلمانان هانگ کانگ؛ مساجد کی کمی اور بقائے باہمی

IQNA

مسلمانان هانگ کانگ؛ مساجد کی کمی اور بقائے باہمی

15:56 - December 03, 2025
خبر کا کوڈ: 3519591
ایکنا: ہانگ کانگ مشرق اور مغرب کے ملاپ کی جگہ کے طور پر جانا جاتا ہے اور اس خطے میں مسلمان مساجد کی محدود تعداد کے باعث اکثر عارضی مقامات پر نماز ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

ایکنانیوز کے مطابق، مصر کے مصنف اور سابق صحافی شعبان عبدالرحمن نے ترک پریس میں لکھے گئے اپنے مضمون میں ہانگ کانگ میں مسلمانوں اور اسلام کی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ "ہانگ کانگ" ایک چینی لفظ ہے جس کا مطلب "خوشبودار بندرگاہ" ہے۔ نوآبادیاتی حکمران اسے "مشرق کا موتی" کہتے تھے۔ یہ علاقہ عوامی جمہوریہ چین کے دو خصوصی انتظامی علاقوں میں سے ایک ہے (دوسرا ماکاؤ ہے)۔

اس کی آبادی 74 لاکھ 82 ہزار سے زیادہ ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ آبادیاتی رکھنے والے علاقوں میں شمار ہوتی ہے، برخلاف تائیوان کے جو دنیا میں آبادی میں کمی کی بلند ترین شرح رکھتا ہے۔

قدیم زمانوں میں ہانگ کانگ میں بہت کم لوگ آباد تھے اور قرونِ وسطیٰ کے آخر تک یہ ایک چھوٹا سا غیر اہم ماہی گیر گاؤں ہی رہا۔ پھر پہلی افیون جنگ (1839-1842) کے بعد یہ برطانوی قبضے میں چلا گیا۔ بعد ازاں ہانگ کانگ کی حدود بڑھا کر کولون جزیرہ نما اور نئے علاقے بھی شامل کر دیے گئے۔ 20ویں صدی کے وسط میں جاپان نے اسے جنگِ بحرالکاہل کے دوران قبضے میں لیا لیکن جنگ کے بعد برطانیہ نے دوبارہ کنٹرول سنبھال لیا۔ ہانگ کانگ 1997 تک برطانوی نوآبادی رہا، پھر اسے چین کے حوالے کر دیا گیا۔

زبان اور ثقافت

ہانگ کانگ کی سرکاری زبان چینی یوئی ہے جو جنوبِ چین میں بولی جاتی ہے اور تقریباً 6 کروڑ 20 لاکھ افراد اس زبان کے بولنے والے ہیں۔ انگریزی بھی سرکاری زبان ہے اور روزمرہ زندگی میں ایک بڑی تعداد اسے بولتی ہے۔

ہانگ کانگ کو مشرق و مغرب کے سنگم کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ یہاں کی ثقافت چینی فلسفے اور مغربی اثرات کے امتزاج کا نمونہ ہے، جس میں فاسٹ فوڈ سے لے کر روایتی چینی کھانوں تک کا ملا جلا اثر نمایاں ہے۔

مسلمانان هنگ کنگ از کمبود مساجد تا تسهیل فرآیند ادغام

 

ہانگ کانگ میں اسلام کا داخلہ

مشرقِ بعید کے علاقوں، جن میں ہانگ کانگ بھی شامل ہے، میں اسلام پہلی صدی ہجری (578ء) میں عرب تاجروں کے ذریعے پہنچا جو جنوب مشرقی چین تک بھی آ گئے تھے۔ بعد کی صدیوں میں ہند مشرقی اور مالایا سے مسلمانوں کی ہجرت جاری رہی۔

جنوبی چین اور ہانگ کانگ میں اسلام کی تاریخ ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ چین کے اندر سیاسی حالات کے دوران ہانگ کانگ مسلمانوں کے لیے پناہ گاہ ثابت ہوا۔ 1946 کی کمیونسٹ بغاوت کے دوران بھی بہت سے مسلمان یہاں منتقل ہوئے۔ 1950 تک ہانگ کانگ اور چین کی سرحد کھلی رہی۔

19ویں صدی کے وسط میں اسلام کا دوبارہ احیا ہوا جب برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے مسلمان ہانگ کانگ آئے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ نے بھارت اور انڈونیشیا سے مزدور منگوائے جن میں مسلمان بھی شامل تھے۔ 20ویں صدی کے آخر تک مسلسل ہجرت کے باعث مسلمانوں کی تعداد میں بڑا اضافہ ہوا۔

مسلمانان هنگ کنگ از کمبود مساجد تا تسهیل فرآیند ادغام

 

آج مسلمانوں کی آبادی مجموعی آبادی کا 4.1 سے 4.2 فیصد ہے (تقریباً 3 لاکھ مسلمان)، جن میں چینی، انڈونیشی، پاکستانی اور مختلف قومیتوں کے افراد شامل ہیں۔ ان میں سے اکثریت سنی مسلمان ہے۔

اس کے مقابلے میں 54.7٪ آبادی لامذہب یا بے دین، 14.9٪ مسیحی اور 13٪ دیگر غیر مسلم مذاہب سے تعلق رکھتی ہے۔

مساجد اور اسلامی مراکز

ہانگ کانگ میں پانچ مساجد ہیں۔ سب سے بڑی کولون مسجد ہے جو گنجان آباد علاقے کولون میں واقع ہے۔ اس میں منسلک اسلامی مرکز 3500 نمازیوں کی گنجائش رکھتا ہے۔

قدیم ترین مسجد جامعہ مسجد ہے جو 1840 کی دہائی میں تعمیر ہوئی اور 1915 میں اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔

مساجد کی کم تعداد کے باعث بہت سے مسلمان عارضی جگہوں پر نماز پڑھنے پر مجبور ہیں، اس لیے مزید مساجد کی ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔

.

مسلمانان هنگ کنگ از کمبود مساجد تا تسهیل فرآیند ادغام

 

سماجی انضمام کے چیلنجز

ہانگ کانگ میں 70 سے زیادہ حلال ریسٹورنٹس موجود ہیں، لہٰذا حلال خوراک کا حصول مسئلہ نہیں ہے۔

تاہم مسلمانوں کو دو بڑے مسائل کا سامنا ہے:

1: تعلیمی رکاوٹیں

غیر چینی مسلمان طلبہ کے لیے معیاری اسکولوں اور روزگار کے مواقع محدود ہیں۔

2: سماجی انضمام کے مسائل

عام آبادی میں اسلام کی مناسب آگاہی نہیں ہے۔ تاہم میڈیا کوریج میں اضافے کے بعد اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مثبت فہم پیدا ہو رہا ہے، جس سے ان کے سماجی انضمام کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔/

 

4320350

نظرات بینندگان
captcha