
ایکنا نیوز- صدی البلد نیوز کے مطابق مصری مفتیٔ، نذیر عیاد نے اس سوال کے جواب میں جو اُن سے مصنوعی ذہانت (AI) خصوصاً چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) جیسے پروگراموں کے ذریعے قرآنِ کریم کی تفسیر کے بارے میں پوچھا گیا تھا، اس حوالے سے شرعی حکم کی وضاحت کی۔
مفتیٔ مصر نے اس ملک کے سرکاری ادارے دارالافتاء کی ویب سائٹ پر واضح کیا کہ قرآنِ کریم کی تفسیر میں مصنوعی ذہانت کے پروگراموں پر مکمل انحصار شرعاً ممنوع ہے اور ان کے ذریعے قرآن کے معانی اخذ کرنا بطورِ خود جائز نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ پابندی اس لیے عائد کی گئی ہے تاکہ کتابِ الٰہی کو قیاس آرائی اور گمان کے دائرے میں جانے سے محفوظ رکھا جا سکے اور اسے بغیر علم تفسیر یا ایسے معانی منسوب کرنے سے بچایا جائے جن کی توثیق ماہرین نے نہ کی ہو۔
مفتیٔ مصر نے مزید کہا کہ قرآنِ کریم کے معانی میں تدبر اور تحقیق صرف اُن افراد تک محدود ہونی چاہیے جن کے پاس تفسیر کے معتبر اصول و ضوابط اور وہ علمی اوزار موجود ہوں جنہیں معروف مفسرین اور فقہا نے تسلیم کیا ہو۔
نذیر عیاد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قرآنِ کریم کی آیات کے فہم و تفسیر کے لیے مستند تفسیری کتب سے رجوع کیا جائے یا قابلِ اعتماد اور ماہر علما و دینی اداروں سے سوال و جواب کیا جائے، تاکہ کتابِ خدا کی حفاظت ممکن ہو اور علم، دیانت اور دقیق معرفت پر مبنی درست فہم حاصل کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت جدید دور میں ٹیکنالوجی کی نمایاں ترین ترقیات میں سے ایک ہے اور اسے متعدد شعبوں میں، بشمول دینی متون کی پروسیسنگ کے، استعمال کیا جا رہا ہے۔
تاہم مصنوعی ذہانت نے قرآنی سورتوں سے متعلق بعض امور میں سنگین غلطیوں کا ارتکاب کیا ہے۔ حال ہی میں فیس بک کے چند صارفین نے ایسی تصاویر شائع کیں جن میں سورۂ فلق کے بارے میں مصنوعی ذہانت سے ہونے والی گفتگو دکھائی گئی، جہاں یہ نظام قرآن سے باہر کے الفاظ کے ساتھ جواب دیتا ہے، اور جب اس کی غلطی کی نشاندہی کی جاتی ہے تو بعد میں درست سورت کا متن پیش کرتا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر علمائے دین، مبلغین اور فقہا کے ایک گروہ نے خصوصاً انٹرنیٹ پر دستیاب پروگراموں اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال پر، قرآنِ کریم کی آیات میں تحریف کے خطرے کے باعث خبردار کیا ہے۔
علمائے کرام نے اہلِ ایمان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر معروف پروگراموں اور پلیٹ فارمز، جیسے مصنوعی ذہانت، کے استعمال سے گریز کریں اور یہ بات ذہن میں رکھیں کہ قرآنِ کریم اور اس کے نص کی حفاظت ایک ایسی ذمہ داری ہے جس پر تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کو توجہ دینی چاہیے۔/
4330826