
ایکنا نیوز، الجزیرہ نیوز چین کی خبر میں کہا گیا ہے کہ تحقیق کرنے والے ماہرین نے دریافت کیا کہ ان کے نتائج ان عام دعووں کی بھی تائید کرتے ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حالیہ جنگ کے دوران اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ برطانوی عوام کی اسلام میں بڑھتی دلچسپی کے بارے میں میڈیا میں جو خبریں سامنے آئیں، خصوصاً وہ جو مسلم معاشروں کو متاثر کرنے والے عالمی تنازعات سے جڑی ہیں، وہ خاص اہمیت رکھتی ہیں۔
محققین کے مطابق، یہ رجحان اُن رپورٹوں کی تصدیق کر سکتا ہے جو 2023 اور 2024 کے اختتامی مہینوں میں سامنے آئیں اور جن میں غزہ پر اسرائیلی جنگ کے بعد اسلام قبول کرنے کے معاملات میں نمایاں اضافے کا ذکر تھا۔
مزید یہ کہ محققین نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ اسلام قبول کرنے والے بہت سے افراد اپنی زندگی میں معنی اور مقصد تلاش کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔
یہ تحقیق، جس میں 2,774 ایسے افراد کی آراء شامل تھیں جنہوں نے اپنے مذہبی عقائد تبدیل کیے، چاہے کسی نئی مذہب کو قبول کرکے یا مذہب کو مکمل طور پر ترک کرکےاس نتیجے پر پہنچی کہ افراد کے محرکات اور نتائج اس بنیاد پر بہت مختلف ہوتے ہیں کہ وہ کون سا مذہب اختیار کرتے ہیں۔
مطالعے کے مطابق 20 فیصد افراد نے عالمی تنازعات سے متعلق وجوہات کی بنا پر اسلام قبول کیا، جبکہ 18 فیصد افراد نے ذہنی صحت سے جڑی وجوہات کے باعث اسلام کی طرف رجوع کیا۔/
4320995