
بسم الله الرحمن الرحیم
چند روز سے ایران کی سرزمین پر فوجی حملے جاری ہیں، جن کے نتیجے میں کئی شہری شہید ہو چکے ہیں، جن میں وطن کے بہادر دفاع کرنے والے افراد، متعدد بچے اور دیگر معصوم غیرملکی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، عوامی اور نجی املاک کو وسیع نقصان پہنچا ہے۔ متوقع طور پر، متقابل فوجی کارروائی کا دائرہ کار وسیع ہو گیا ہے اور کچھ دیگر ممالک بھی متاثر ہوئے ہیں، جن کے علاقوں اور تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، ایسے مناظر جو اس خطے میں طویل عرصے سے دیکھے نہیں گئے۔
کسی بھی ملک کے خلاف یک طرفہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دائرہ کار سے باہر جنگ شروع کرنا، تاکہ مخصوص شرائط عائد کی جائیں یا سیاسی نظام کو ختم کیا جائے، نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک انتہائی خطرناک اقدام بھی ہے۔ اس کے نتیجے میں علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سنگین مسائل پیدا ہوں گے، اور توقع ہے کہ یہ وسیع انتشار اور طویل مدتی عدم استحکام کا سبب بنے گا، جو خطے کے ممالک اور دوسروں کے مفادات کے لیے شدید نقصان دہ ہوگا۔
لہذا، مرجعیت عالی دینی اس ظالمانہ جنگ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور تمام مسلمانوں اور آزاد انسانوں سے اپیل کرتی ہے کہ اس جنگ کی مذمت کریں اور مظلوم ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔ مزید برآں، وہ تمام مؤثر بین الاقوامی اداروں اور دنیا کے ممالک، خصوصاً اسلامی ممالک، سے درخواست کرتی ہے کہ فوری جنگ کو روکنے اور ایران کے ایٹمی معاملے کا پرامن اور منصفانہ حل تلاش کرنے کے لیے اپنی تمام توانائیاں بروئے کار لائیں، اور یہ سب بین الاقوامی قوانین کے دائرہ کار میں ہونا چاہیے۔
(۱۴/ ماه رمضان/۱۴۴۷ هـ ق ) مطابق (۱۳/۱۲/ هـ ش ۱۴۰۴ )
دفتر آقائے سیستانی (مدّ ظلّه) ـ نجف اشرف