ایکنا نیوز- خبر رساں ویب سائٹ "البیان" کے مطابق دبئی کے محکمہ امورِ اسلامی اور فلاحی سرگرمیوں نے قرآنِ کریم کی تعلیم اور حفظ کے لیے ایک جامع ادارہ جاتی نظام تشکیل دینے کے مقصد سے "ہر گھر میں ایک حافظِ قرآن" منصوبے کا آغاز کیا ہے۔
یہ اقدام معاشرے کے افراد کو لچکدار تعلیمی راستوں اور یکساں معیارات کے ذریعے کتابِ الٰہی سیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جس کے نتیجے میں خاندانی سطح پر قرآنی اقدار کے فروغ کو تقویت ملتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دبئی کی حیثیت ایک ایسے مثالی شہر کے طور پر مستحکم ہوتی ہے جو علم پر مبنی معاشرہ تشکیل دینے میں پیش پیش ہے، اپنی شناخت پر فخر کرتا ہے اور مستقبل کے لیے تیار ہے۔ یہ اسٹریٹجک قدم دبئی کی اس وابستگی کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری اور پائیدار ترقی کی بنیاد کے طور پر اعلیٰ اقدار کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے۔
یہ منصوبہ ایک بنیادی تصور پر مبنی ہے: ہر گھر میں کم از کم ایک حافظِ قرآن ہونا۔ اس ہدف کو متعلقہ قرآنی تعلیمی اداروں اور مراکز کی کاوشوں کو ایک جامع تنظیمی ڈھانچے میں یکجا کر کے، معیاری تعلیمی اصولوں کے مطابق حاصل کیا جائے گا۔
اس سے حفظِ قرآن کے نتائج کے معیار میں بہتری آئے گی اور معاشرے کے تمام طبقات کے لیے قرآنی پروگراموں تک رسائی میں اضافہ ہوگا۔ اس منصوبے کا ہدف مختلف عمر اور طبقات کے افراد ہیں، جن میں چھ سال سے زائد عمر کے بچے، نوجوان، والدین، بزرگ اور معذور افراد شامل ہیں۔
یہ منصوبہ ایک ترقی یافتہ تعلیمی نظام پر مبنی ہے جس کے تین بنیادی مراحل ہیں: ابتدا میں نوآموز افراد کے لیے قراءت کی تعلیم اور اصلاح، اس کے بعد حفظ اور تجوید، اور آخر میں ممتاز حفاظ کے لیے قراءت اور اسناد کا مرحلہ شامل ہے۔
دبئی کے محکمہ امورِ اسلامی اور فلاحی سرگرمیوں کے ڈائریکٹر جنرل، احمد درویش المہیری نے زور دیا کہ "ہر گھر میں ایک حافظِ قرآن" منصوبہ ایک اسٹریٹجک سمت کی نمائندگی کرتا ہے جو انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری، اور اقدار و علم کے نظام کو مضبوط بنانے کے حوالے سے دبئی کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔
4347822