کویتی قاری کا قرآن سے نادرست استفادہ الھی تعلیمات کے منافی ہے

IQNA

عراقی قاری:

کویتی قاری کا قرآن سے نادرست استفادہ الھی تعلیمات کے منافی ہے

9:37 - April 27, 2026
خبر کا کوڈ: 3520155
عراق کے بین الاقوامی قاری، اسامہ کربلائی نے اس بات پر زور دیا کہ کویتی قاری مشاری راشد العفاسی کا مؤقف، جس میں انہوں نے امریکی۔صہیونی جارحیت کو قرآنِ کریم کی آیات کے غلط استعمال کے ذریعے جائز ٹھہرانے کی کوشش کی، الٰہی تعلیمات کے جوہر کے خلاف ہے۔

ایکنا نیوز- مشاری العفاسی، جو ایک معروف قاری اور کویت کی جامع مسجد کے امام ہیں، نے حال ہی میں "تَبَّتْ يَدَا إِيرَان وَاللِّي مَعَ إِيرَان" کے عنوان سے ایک کلپ جاری کیا، جس میں انہوں نے ایران کے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے اپنا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے ظاہر کیا۔

اس کلپ میں انہوں نے آیتِ کریمہ «تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ» کو مسخ کرتے ہوئے ایران اور اخوان المسلمین کے خلاف "ان کے ہاتھ ٹوٹ جائیں" کا نعرہ لگایا، جبکہ انہوں نے نہ غزہ میں صہیونی حکومت کے جرائم کا ذکر کیا اور نہ ہی میناب میں بے گناہ بچیوں کے قتلِ عام کی طرف کوئی اشارہ کیا۔ اسی کلپ میں انہوں نے بعض عرب ممالک کی حکمران قیادتوں کی تعریف بھی کی۔

یہ کویتی قاری، جو عالمِ اسلام اور سوشل میڈیا میں اپنی شہرت کا غلط استعمال کرتے ہوئے بعض عرب ممالک کے حکمرانوں کے ہاتھوں ایک آلہ کار بن چکے ہیں، اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ ایران پر جہنم مسلط کر دے۔

اسی پس منظر میں، اس موضوع کی وضاحت کے لیے بین الاقوامی خبر رساں ادارے (ایکنا) نے عراقی بین الاقوامی قاری اور روضۂ حسینی و عباسی (علیہما السلام) کے مؤذن، حاج اسامہ کربلائی سے گفتگو کی۔ اس گفتگو کی تفصیل درج ذیل ہے:

ایکنا: مشاری العفاسی کے حالیہ مؤقف اس مشہور حدیث «بسا اوقات قرآن کے قاری ایسے ہوتے ہیں جن پر خود قرآن لعنت کرتا ہے» سے کس حد تک مطابقت رکھتے ہیں؟

جب ایک معروف قاریِ قرآن اپنے آپ کو ایسے سیاسی بیانیے کے ساتھ ہم آہنگ کر لیتا ہے جو امریکی۔صہیونی جارحیت کو جائز قرار دیتا ہے، یا ایسے اسلامی گروہ پر حملہ کرتا ہے جو اپنے استعماری مخالفتی مؤقف کی وجہ سے معروف ہے، تو یہ اس حدیث کی ایک نہایت خطرناک عملی مثال بن جاتا ہے۔

قرآن صرف تلاوت کے لیے الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی منصوبہ اور ایک تہذیبی مؤقف ہے۔ وہ قرآن جو مظلوموں کی حمایت اور ظلم کے رد کی دعوت دیتا ہے، کسی ایسے بیانیے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکتا جو قتل، محاصرہ اور خطے کے عوام پر جارحیت کرنے والوں کو اخلاقی جواز فراہم کرے۔ لہٰذا اصل خطرہ قرآن کو ایسے بیانیے میں بطور آلہ استعمال کرنا ہے جو اس کے جوہر کے خلاف ہو۔

ایکنا:  مشاری العفاسی کے منفی خیالات و عقائد کا عالمِ اسلام کی رائے عامہ پر کیا اثر پڑتا ہے؟

مشاری راشد العفاسی کا خطرہ اس بات میں ہے کہ وہ محض ایک عام قاری نہیں بلکہ عالمِ اسلام میں وسیع سامعین رکھنے والی ایک بااثر شخصیت ہیں۔ اس لیے ان کی باتوں کا اثر ذاتی دائرے سے کہیں بڑھ جاتا ہے۔ جب اس نوعیت کے مؤقف، جو سلفی۔وہابی پس منظر سے نکلتے ہیں اور تاریخی طور پر مکتبِ اہلِ بیت (علیہم السلام) کے خلاف معاندانہ رویے سے منسوب رہے ہیں، پھیلتے ہیں تو وہ مسلم معاشرے میں تفرقہ انگیز بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔

ایکنا:  اس انحراف کے مقابلے میں عالمِ اسلام کے قرآنی کارکنان، قراء، حفاظ اور مداحوں کی کیا ذمہ داری ہے؟

سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ واضح کیا جائے کہ قرآن صرف خوبصورت تلاوت کا نام نہیں۔ حقیقی قاری وہ ہے جس کا مؤقف اور طرزِ فکر مسلم معاشرے کے مسائل کے بارے میں قرآن کی آیات کی بنیاد پر تشکیل پاتا ہو۔

ایکنا: قرآن کے خالص علم سے استفادہ اور انحراف سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

ضروری ہے کہ ہم قرآن کے ساتھ اپنے تعلق کو محض خوش الحانی کی بنیاد پر نہیں بلکہ تدبر، فہم اور عملی التزام کی بنیاد پر دوبارہ استوار کریں۔ امت کو ایسے قاری کی ضرورت ہے جو قرآن کی تلاوت سے پہلے اسے اپنی زندگی میں نافذ کرے اور اس کی آیات کو عمل کا معیار بنائے، نہ کہ صرف ایک مؤثر آواز کا مالک ہو۔

4348463

نظرات بینندگان
captcha