ایکنا نیوز- خبررساں ادارے "لیڈرشیپ" کے مطابق فیفا نے حال ہی میں اسپین میں کھیلے گئے ایک میچ کے دوران سنائی دینے والے اسلام مخالف نعروں کے باعث اس ملک کی فٹبال فیڈریشن کے خلاف تادیبی اقدامات کا آغاز کیا ہے۔
یہ میچ 31 مارچ کو منعقد ہوا تھا، جس کے دوران بارسلونا کے RCDE اسٹیڈیم میں کچھ شائقین نے نعرہ لگایا: "جو نہیں کودے گا وہ مسلمان ہے۔"
فیفا کے حکام نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ادارے نے مصر کے خلاف دوستانہ میچ میں پیش آنے والے واقعات کے سبب ہسپانوی فٹبال فیڈریشن کے خلاف باضابطہ تادیبی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ واقعہ ان متعدد واقعات کی تازہ کڑی ہے جنہوں نے حالیہ برسوں میں ہسپانوی فٹبال کو متاثر کیا ہے۔ ایک اور نسلی امتیاز کے واقعے میں ریال میڈرڈ کے برازیلی کھلاڑی وینیسیئس جونیئر کو بارہا نسل پرستانہ توہین کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
گزشتہ ہفتے اسپین کی پولیس نے اعلان کیا کہ وہ اسلاموفوبیا اور غیر ملکیوں کے خلاف نفرت انگیز نعروں کی تحقیقات کر رہی ہے، جبکہ ملک کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اس واقعے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایک غیر مہذب اقلیت کو ملک کی بدنامی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ہسپانوی فٹبال فیڈریشن نے بھی ان نعروں کی مذمت کی ہے۔ دوسری جانب اسپین کے مسلمان فٹبالر لامین یامال، جو اس میچ میں شریک تھے، نے ان افراد کی جانب سے کی جانے والی بے احترامی کی مذمت کی جو "جاہل اور نسل پرست" ہیں۔
اتلتیکو میڈرڈ کے کوچ ڈیاگو سیمیونے نے کہا کہ یہ مسئلہ کسی ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ ایک عالمی سماجی مسئلہ ہے جو اسپین، ارجنٹینا اور برازیل سمیت کئی ممالک کو متاثر کر رہا ہے۔
انہوں نے معاشروں میں باہمی احترام کی اقدار کی بحالی پر زور دیا، خصوصاً خاندان، تعلیمی اداروں اور کھیلوں کے میدانوں کے حوالے سے خصوصی تاکید کی۔
4348200