IQNA

13:34 - August 30, 2018
خبر کا کوڈ: 3505027
بین الاقوامی گروپ: اکمال نعمت دین اور وصی رسول اللہ کے انتخاب کی خوشی میں جشن غدیر کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

ایکنا نیوز- عید غدیر محبان اہل بیت کی بڑی عیدوں میں سے ہے جسے 18 ذوالحجہ کے دن منایا جاتا ہے۔ احادیث کے مطابق ہجرت کے دسویں سال حجۃ الوداع کے موقع پر پیغمبر اکرمؐ نے خدا کے حکم سے امام علیؑ کو خلافت اور امامت کے منصب پر منصوب فرمایا۔ یہ واقعہ غدیر خم کے مقام پر پیش آیا۔

 

شیعہ مآخذ میں اس عید کیلئے عیدُاللهِ‌ الاکبر (سب سے بڑی عید)، [1] اہل بیت محمدؐ کی عید ،[2] اور اشرف الاعیاد (سب سے افضل ترین عید) [3] جیسی تعابیر استعمال ہوئی ہیں۔

 

اہل تشیع پوری دنیا میں اس دن جشن مناتے ہیں جس میں مختلف پروگرام منعقد کرتے ہیں آج کل اس عید کو منانا شیعوں کے شعائر میں شمار ہوتا ہے۔

پیغمبر اکرمؐ ہجرت کے دسویں سال 24 یا 25 ذی القعدہ کو ہزاروں کا قافلہ لے کر مناسک حج انجام دینے کی غرض سے مدینہ سے مکہ کی طرف حرکت فرمایا۔[4] چونکہ یہ حج پیغمبر اکرمؐ کا آخری حج تھا اس لئے یہ حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہوا۔ حج کے اعمال سے فارغ ہو کر پیغمبر اکرمؐ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔ 18 ذوالحجہ کے دن یہ قافلہ غدیر خم کے مقام پر پہنچا اس مقام پر جبرئیل آیت تبلیغ لے کر پیغمبراکرمؐ پر نازل ہوا اور خدا کی طرف سے حضرت علیؑ کی امامت و ولایت کے اعلان کرنے کا حکم صادر فرمایا۔

خطبہ غدیر

 

احادیث کے مطابق رسول خداؐ نے غدیر خم میں لوگوں کو جمع کیا اور حضرت علیؑ کا ہاتھ تھام کر بلند کیا تاکہ سب آپؑ کو دیکھ سکے اس کے بعد فرمایا: ترجمہ: کیا میں مؤمنین پر حقِ تصرف رکھنے میں ان پر مقدم نہیں ہوں؟ سب نے کہا: کیوں نہیں! چنانچہ آپؐ نے فرمایا: میں جس کا مولا و سرپرست ہوں یہ علی اس کے مولا اور سرپرست ہیں؛ یا اللہ! تو اس کے دوست اور اس کو اپنا مولا اور سرپرست سمجھنے والے کو دوست رکھ اور اس کے دشمن کو دشمن رکھ؛ جو اس کی نصرت کرے اس کی مدد کر اور جو اس کو تنہا چھوڑے اس کو اپنے حال پر چھوڑ کر تنہا کردے۔ اس کے بعد مجمع سے مخاطب ہو کر فرمایا جو یہاں حاضر ہیں وہ ان لوگوں تک یہ پیغام پہنچا دیں جو یہاں حاضر نہیں ہیں۔"

 

احادیث کی روشنی میں

اہل سنت مآخذ میں نقل ہوا ہے کہ جو بھی 18 ذولحجہ کو روزہ رکھے، خداوند عالم 6 ماہ روزے کا ثواب اس شخص کے نامہ عمل میں لکھ دیتا ہے اور یہ دن عید غدیر کا دن ہے۔[5]

 

رسول خداؐ فرماتے ہیں: "عید غدیر کا دن میری امت کے بڑی عیدوں میں سے ہے اس دن خدا نے بہت بڑا حکم صادر فرمایا اس دن میرے بھائی علی بن ابی طالب کو امت کیلئے امام کے طور پر منتخب کیا تاکہ میرے بعد میری امت اس کے ذریعے ہدایت پاسکے۔ یہ دن وہ ہے جس دن خدا نے دین اسلام کو مکمل کیا اور میری امت پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کی اور اسلام کو بعنوان دین ان سے قبول کیا۔" [6]

 

اسی طرح امام صادقؑ فرماتے ہیں: "غدیر کا دن خدا کا بہت بڑا دن ہے خدا نے کسی نبی کو مبعوث نہیں کیا مگر یہ کہ اس دن کو عید کے طور پر منایا اور اس دن کی عظمت کو پہچان لیا۔ اس دن کو آسمان میں عہد و پیمان کا دن کہا جاتا ہے اور زمین میں محکم میثاق اور تمام لوگوں کے جمع ہونے کا دن ہے۔"[7]

 

ایک اور روایت میں امام صادقؑ عید غدیر کو مسلمانوں کیلئے باعظت ترین اور باشرافت‌ ترین عید قرار دیتے ہیں۔ لہذا سب پر واجب ہے کہ اس دن ہر لمحہ خدا کا شکر بجا لائے اور لوگوں کو شکرانے کے طور پر روزہ رکھنے کا حکم دیا جس کا ثواب 600 سال عبادت کے برابر ہے۔[8]

 

امام رضاؑ فرماتے ہیں: "روز غدیر اہل آسمان کے ہاں اہل زمین والوں سے بھی زیادہ مشہور ہے۔ لوگ اس دن کی قدر و منزلت سے آگاہ نہیں ہیں، بے شک خدا کے مقرب فرشتے ہر روز دس مرتبہ ان سے مصافحہ کرتے ہیں۔"[9]

منبع– شیع ویکی پیڈیا

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: