IQNA

7:42 - October 20, 2019
خبر کا کوڈ: 3506759
بین الاقوامی گروپ: یوم حسینؑ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ و شہدائے کربلا نے اسلام کو اصل حیثیت میں برقرار رکھنے اور شریعت محمدی کے تحفظ کی خاطر جان و مال اور عزیز و اقارب کی قربانیاں دے کر عظیم ترین تاریخ رقم کی۔

ایکنانیوز- اسلام ٹائمز۔ اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن پاکستان کے زیر اہتمام سندھ یونیورسٹی جامشورو میں 50واں سالانہ یوم حسینؑ سینٹرل کینٹین لان بوائز ہاسٹل میں منعقد کیا گیا، جس کی صدارت مرکزی صدر اے ایس او محسن علی اصغری نے کی، یوم حسینؑ کی تقریب میں خصوصی خطاب علامہ ڈاکٹر جواد حیدر ہاشمی اور معلمہ خواہر سلمہ علی نے کیا، جبکہ تلاوت کلام الہیٰ منتظر مہدی، حمد باری تعالی، نعت رسول مقبول، منقبت اور سوز خوانی بھی کی گئی، پروگرام میں شیعہ سنی، غیر مسلم کے ساتھ سندھ یونیورسٹی، مہران انجنئرنگ یونیورسٹی کے طلبا اور طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

یوم حسینؑ کی تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جواد حیدر ہاشمی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ و شہدائے کربلا نے اسلام کو اصل حیثیت میں برقرار رکھنے اور شریعت محمدی کے تحفظ کی خاطر جان و مال اور عزیز و اقارب کی قربانیاں دے کر عظیم ترین تاریخ رقم کی۔ انہوں نے کہا کہ حق کی سربلندی کیلئے باطل قوتوں کے خلاف ڈٹ جانا شہدائے کربلا کا درسِ انقلاب ہے، حضرت امام حسینؑ و شہدائے کربلا سے محبت و عقیدت کا تقاضا ہے کہ ان کے نقشِ قدم پر چلا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دین و ملت کو مضبوط و مستحکم کرنے کیلئے اسوہ حسینیؑ کی پیروی کرنا ہوگی۔

اے ایس او کے مرکزی صدر محسن علی اصغری نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے وقت شہادت بھی نماز ادا کی، آج مسلمان کردار حسینی کو مشعل راہ بناتے ہوئے فرائض و واجبات کی وقت پر ادائیگی یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا جیسا جذبہ بیدار کرکے ہی امت کی نشاة ثانیہ کو بحال کیا جا سکتا ہے، حضرت امام حسینؑ دین کی بقاء اور اسلامی اقدار کا تحفظ ہیں، تمام مظالم سہہ کر حضرت امام حسینؑ اور حضرت محمد مصطفیؐ کے خانوادہ نے دین محمدی کو تحریفِ یزیدیت سے بچایا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی، تحفظ شریعت، احترام آدمیت، بیداری، زندگی، منہ زوروں کو زیر کرنے کا پیغام حسینؑ ہے، ظالم و فاجر اور دین میں بگاڑ پیدا کرنے والے یزید کے خلاف ڈٹ جانا ہی حسینیت ہے۔ یوم حسینؑ سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

نام:
ایمیل:
* رایے: