IQNA

5:52 - March 10, 2020
خبر کا کوڈ: 3507357
تہران( ایکنا)جشن ولادت فاتح اسلام سے خطاب کرتے ہوئے علامہ خیال دانش نے امام احمد بن حنبل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، کہ امام علی کی شان وشوکت اور مناقب کیلئے وہ بالکل حیران ہے۔ کہ جس کے فضائل کو غیروں نے حسد کی وجہ سے جبکہ اپنوں نے دشمنوں کی ڈر اور خوف سے بیان نہ کیا۔ اسکے باوجود روایات میں امام علی جتنے فضائل کسی شخص کے دستیاب نہیں۔

ایس این حسینی کی ایک رپورٹ کے مطابق مرکزی جامع مسجد وامام بارگاہ پاراچنار میں جشن ولادت باسعادت امام علی علیہ السلام نہایت عقیدت اور احترام کے ساتھ منایا گیا۔ اس سلسلے میں دو روزہ جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں پاراچنار شہر سمیت ڈسٹرکٹ کرم کے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مرکزی امام بارگاہ پاراچنار میں 12 اور 13 رجب المرجب کو یوم ولادت امام علی علیہ السلام کی مناسبت سے انعقاد پذیر دو روزہ جشن اور جلسے سے علامہ شاکر حسین، علامہ خیال حسین دانش اور دیگر مقررین اور ذاکرین نے خطاب کیا۔

علماء نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام علی علیہ السلام کی شخصیت کسی بیان کا محتاج نہیں، علی علیہ السلام وہ ہستی ہیں، جنہوں نے سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے شانہ بشانہ رہ کر ہر منزل پر بے پناہ تکالیف برداشت کئے۔ اور اپنی جان کی قیمت پر اپنے اور پورے کائنات کے مرشد اور سید و سردار کی حفاظت فرمائی۔ دوسری جانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خود بھی ہر مشکل گھڑی میں مولا علیؑ ہی کو آواز دی۔ ہر وہ مقام جہاں بڑے بڑے سورماؤں کے پاؤں اکھڑ جاتے، وہاں علیؑ اپنی شجاعت کے داد حاصل کرتے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام کا لگایا ہوا پودا ابوطالب کی سیاسی تعاون، بی بی خدیجہ کے مال و دولت اور مولائے متقیان علی علیہ السلام کے زور بازو کی بنیاد پر تناور درخت بن گیا۔ قلعہ خیبر کی فتح جسکی واضح مثال ہے۔ مومنین کی توجہ اس نکتے کی جانب مبذول کراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میدان جنگ میں علیؑ جتنے سخت تھے، عام زندگی میں خصوصا مومنین کے ساتھ راہ ورسم میں امیر المومنین علیہ السلام کی نرمی بھی مثالی تھی۔ علماء کرام نے کہا کہ آج مسلمانوں کی نجات اور کامیابی سیرت امیر المومنین اپنانے ہی میں مضمر ہے۔

مولانا خیال حسین نے کہا کہ توحید شناسی کیلئے امام شناسی ضروری ہے۔ جب تک امام زمانہ کی معرفت حاصل نہ ہوجائے، تب تک خدا کی معرفت حاصل نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن و جمال کا بہت تذکرہ ملتا ہے۔ تاہم کوئی ایسی روایت موجود نہیں کہ اسکے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔ یہ تو صرف علی کی ذات بابرکات ہے جسکی زیارت کو اللہ رب العزت نے عبادت قرار دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیغمبر کی حدیث ہے جو خود مولا علی سے مروی ہے کہ یا علی آپ ہی صراط مستقیم ہیں۔ جبکہ یہ ایک نہایت عجیب بات ہے کہ شیطان نے یہ نہیں کہا کہ وہ لوگوں کو اللہ کی عبادت، نماز روزے، حج اور زکواۃ سے روکے گا۔ بلکہ کہا کہ وہ لوگوں کو صراط مستقیم سے روکے گا۔ کیونکہ وہ بڑا ہوشیار تھا کہ ایک بلب بجھانے سے روشنی ختم نہیں ہوگی بلکہ روشنی کو مکمل طور پر متوقف کرنے کی خاطر مین سوئچ بند کرنا چاہئے۔ چنانچہ اس نے صراط مستقیم یعنی مذھب علی (علی کے راستے) میں روکاوٹ ڈالنے کی ٹھانی ہے۔

علامہ صاحب نے امام احمد بن حنبل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، کہ امام علی کی شان وشوکت اور مناقب کیلئے وہ بالکل حیران ہے۔ کہ جس کے فضائل کو غیروں نے حسد کی وجہ سے جبکہ اپنوں نے دشمنوں کی ڈر اور خوف سے بیان نہ کیا۔ اسکے باوجود روایات میں امام علی جتنے فضائل کسی شخص کے دستیاب نہیں۔ انہوں نے کہا، کہ تاریخ میں چار ایسے مقامات ہیں۔ جہاں مکمل خاموشی نظر آتی ہے۔ جبکہ اس خاموشی کو توڑنے کا بیڑا صرف امام علیؑ اٹھا لیتے ہیں۔ ان میں سے پہلا کارنامہ دعوت ذوالعشیرہ ہے، کہ پیغمبرﷺ نے جب معاون کی تمنا ظاہر کی تو صرف مولا علی اٹھے۔ اور خاموشی کو توڑ کر تعاون کے لئے کمر کس لی۔ اسکے بعد شب ہجرت کے موقع پر جب رسول اللہ ﷺ نے مولائے متقیان سے فرمایا کہ میرے بستر پر سوجائیں۔ تو مولا نے صرف ایک بات پوچھی کہ میں سوجاؤں تو کیا آپ محفوظ رہیں گے؟ رسول اللہ نے فرمایا، ہاں وہ بالکل محفوظ رہیں گے۔

تو مولا علیؑ چادر اڑ کر سوگئے۔ تاکہ دشمن کہیں دیکھ کر متوجہ نہ ہوں کہ اس میں تو رسول اللہ نہیں علی ہیں۔ تیسری خاموشی جو امام علی نے توڑی، وہ جنگ بدر میں بدر کنویں سے پانی لانے کا موقع تھا۔ جو کہ دشمنوں کے نرغے میں تھا۔ جب رسول ص نے صحابہ سے پانی لانے کی خواہش ظاہر کی تو سب خاموش ہوگئے۔ اس موقع پر صرف مولا علی ہی تھے جنہوں خاموشی توڑ کر بدر کنویں سے پانی لاکر لشکر میں تقسیم کیا۔ اسکے بعد جنگ خندق میں جب عمرو بن عبد ود نے مبارزہ کیا، اور رسول اللہ نے باربار کہا کہ کوئی ہے جو اس ملعون کا منہ بند کردے۔ تو سب حاضرین اس طرح خاموش تھے۔

گویا انکے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ کوئی سر نہیں اٹھارہا تھا۔ اس موقع پر بھی امام علی علیہ السلام ہی نے خاموشی توڑ کر رسول اللہ کی آواز پر لبیک کہا اور اس ملعون کا کام تمام کردیا۔ آخر میں مصائب امام حسین علیہ السلام کے ساتھ جلسے کا اختتام کیا گیا۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ اس دوران کرنل جاوید اپنے دیگر اہلکاروں کے ساتھ جلسے میں تشریف لائے۔ اور جلسے کے منتظمین کو جشن کا مبارکباد دینے کے علاوہ انہیں میٹھائی بھی پیش کی۔

849314

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: