IQNA

9:03 - May 11, 2022
خبر کا کوڈ: 3511833
اسلامی روایات میں نماز جماعت پر کافی تاکید کی گئی ہےجس سے اجتماعی عبادت اور انکی مشترکہ پہچان کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔

ایکنا نیوز- قرآن کریم میں کہا گیا ہے: «وَأَقِیمُواْ الصَّلاَةَ وَآتُواْ الزَّکَاةَ وَارْکَعُواْ مَعَ الرَّاکِعِینَ» (بقره/ 43). یہ جو تاکید کی گئی ہے «وَارْکَعُواْ مَعَ الرَّاکِعِینَ»، نماز اجتماعی ادا کرنے کی طرف اشارہ ہے.

نماز کے حوالے سے کافی تاکید آئی ہے جنمیں سے ایک اجتماعی شکل میں نماز کی ادائیگی ہے جنمیں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

نماز جماعت کی ایک خوبی دوسروں کی مشکلات سے آگاہی ہے جہاں مسلمان نماز ادا کرن کے علاوہ ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں اور اگر کسی کی مشکل ہو تو اس کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

نماز جماعت کی ایک اور خوبی اجتماعی دعا ہے کبھی دعا کرنے والا ایک فرد ہوتا ہے لیکن آمین کہنے والا کافی لوگ ہوتے ہیں اور روایات کے مطابق اجتماعی دعا مقبول ہوتی ہے اور اسی طرح مومن کی دعا دوسروں کے لیے کافی برکت اور ثواب کا باعث ہے۔

جماعت میں سب ایک ہی صف میں یکجا ہوتے ہیں اور کسی کو کسی پر برتری نہیں ہوتی اور سب کا مقصد عبادت کرنا ہوتا ہے اور عبادت کے لیے سب ایک دوسرے کے برابر آجاتے ہیں اور اس سے مومنین میں دوستی و محبت میں اضافہ ہوتا ہے اور انفرادی خودپسندی ختم ہوتی ہے ۔

رسول گرامی اسلام(ص) نماز جماعت کو جہنم سے دوری کا وسیلہ قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں: «جوکوئی چالیس دن تک نماز جماعت میں ادا کرتا ہے اللہ تعالی اسے جہنم اور نفاق سے دور کرتا ہے». (اسرار الصلوة غزالی، ص43)

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: