تلاوت قرآن «بیک راونڈ ساز»؛ کے ساتھ، خیالاتی خوبصورتی، تحریف یا واقعیت

IQNA

نوٹ

تلاوت قرآن «بیک راونڈ ساز»؛ کے ساتھ، خیالاتی خوبصورتی، تحریف یا واقعیت

9:34 - November 30, 2025
خبر کا کوڈ: 3519568
ایکنا: قرآن کی تلاوت کے دوران پسِ منظر میں اضافی آواز یا کوئی ترانہ شامل کرنا، یعنی پس منظر میں کوئی آواز یا موسیقی چل رہی ہو،ایک قابلِ فکر اور تشویش ناک امر ہے۔

ایکنا نیوز- قرآنی محقق اور تجربہ کار مدرس سید محسن موسوی بلده نے اس نئے رجحان، یعنی تلاوتِ قرآن کے ساتھ پسِ پردہ اضافی آوازیں شامل کرنے پر ایک تنبیہی نوٹ تحریر کیا ہے، جس میں انہوں نے اسے ایک "خطرناک تحریف" قرار دیا اور نوجوان قارئین کو اس سے خبردار کیا ہے۔ ایکنا کو فراہم کردہ اس خصوصی تحریر میں اس طرز کے ثقافتی اور عالمی اثرات کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے، جو ذیل میں ملاحظہ ہو۔

"قرآن کی تلاوت کے ساتھ پسِ پردہ آوازیں شامل کرنا، یعنی قاری قرآن پڑھ رہا ہو اور ساتھ کوئی آواز یا موسیقی پس منظر میں چل رہی ہو، تشویش کا باعث ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کبھی یہ آواز اجتماعی بھی ہو؛ مثلاً تلاوت کے ساتھ کوئی سر یا آواز شامل ہو۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ کئی افراد مل کر قرآن پڑھیں، وہ تو درست ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک فرد قرآن تلاوت کر رہا ہو اور بیک وقت اس کے نیچے ایک نغمگی یا موسیقیت پر مبنی آواز بھی چل رہی ہو۔ یہ کوئی بھی ہو سکتی ہے،انسانی آواز، کوئی ساز یا کمپیوٹر سے پیدا کی گئی صوتی لہریں۔

یہ رجحان دراصل ایک نئی بدعت اور تحریف کی شکل ہے۔ اگرچہ یہ بالکل نیا نہیں، مگر آج اس کے اثرات پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں اور یہ ایک سنگین خطرہ ہے،ایسا خطرہ جو تجوید اور الحان کے اصول توڑنے سے کم نہیں۔ جب قرآن کے ساتھ زیرصدا میں آوازیں مل کر چلتی ہیں، تو یہ بالآخر ایک قسم کی موسیقی اور ہمنوائی بن جاتی ہے۔ ابتدا میں ممکن ہے کہ یہ لوگوں کو خوشنما لگے، مگر وقت کے ساتھ عوام کے سمعی ذوق میں تبدیلی پیدا ہو جائے گی۔

ہزاروں سال سے مسلمانوں نے قاریانِ قرآن کی خالص اور خوبصورت تلاوت سنی ہے، وہ روایت جو رسول اکرم ﷺ کی شبانہ تلاوت سے شروع ہوئی، پھر امام زین العابدینؑ اور دیگر ائمہ کے ذریعے جاری رہی۔ کہا جاتا ہے کہ امام سجادؑ کی تلاوت ایسی پر سوز تھی کہ سننے والا بے خود ہو جاتا، جیسے حضرت موسیٰؑ کو طورِ سینا پر جلوۂ حق کے سامنے کیفیت طاری ہوئی۔ یہ روایت صدیوں برقرار رہی اور آج بھی دنیا بھر میں قائم ہے۔

گزشتہ صدی سے صوتی آلات اور ریکارڈنگ نے ان تلاوتوں کو محفوظ کر دیا ہے، اور عام لوگ حتیٰ کہ غیر مسلم بھی ان سے فیض پاتے ہیں۔

لیکن اگر ہم قرآن کی تلاوت کو موسیقی سر کے ساتھ ملانا شروع کر دیں اور انفرادی خالص قراءت کے بجائے ساز یا صوتی مرکب شامل کریں، تو آہستہ آہستہ لوگوں کا ذوق بدل جائے گا اور پھر وہ عبدالباسطؒ جیسے بے مثال قراء کی اکیلی اور اصلی آواز کو پسند نہیں کریں گے۔/

 

4319603

نظرات بینندگان
captcha