
ایکنانیوز کے مطابق، قرآنی آوازوں کے انتخاب اور قرات کے لیے منعقدہ اس پروگرام نے مصری فنکار اور میڈیا پرسن اسعاد یونس کی آواز میں ایک خصوصی رپورٹ نشر کی جس میں شیخ محمد عبدالوهاب طنطاوی جو مصر اور عالمِ اسلام میں فنِ تلاوت کے عظیم ستونوں میں شمار ہوتے ہیں، کی حیات، قراءت اور ان کی بے مثال صوتی میراث کا ذکر کیا گیا، جو آج بھی اہلِ قرآن کے دلوں میں زندہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ عظیم قاری اپنے چھوٹے سے گاؤں دقہلیہ کے مکتب سے اپنی قرآنی زندگی کا آغاز کیا اور بعد ازاں عالمی شہرت حاصل کی۔ ان کے والد کی خواہش تھی کہ بیٹا قرآن کے راستے پر چلے، چنانچہ اسے گاؤں کے مکتب میں داخل کیا گیا جہاں انہوں نے 1957 میں شیخ صلاح محمود محمد کی نگرانی میں مکمل قرآن حفظ کر لیا۔
انہوں نے مصر کے مذہبی مرکز میں تعلیم حاصل کی اور جامعہ الازہر کی فیکلٹی آف اصول الدین قاہرہ سے گریجویشن کیا۔ طنطاوی خطیبِ ازہر رہے اور دنیا کے متعدد ممالک کا سفر کیا، جہاں ان کی آواز سننے والوں کے دل کا زخم مرہم بن کر چنگاریوں کو سکون دیتی تھی۔
پروگرام کی میزبان آیہ عبدالرحمن نے گفتگو کے دوران مصری ریڈیو قرآن کے قیام کی تاریخ کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 1960 کی دہائی کے اوائل میں ایک ایسے قرآن کی نشر ہونے پر شدید تشویش پیدا ہوئی جس میں بعض آیات میں جان بوجھ کر تحریف کی گئی تھی۔ اس نے مذہبی و ثقافتی حلقوں میں اضطراب پیدا کیا اور حکومت مصر کو قرآن کی حفاظت کے لیے فوری اقدام کرنے پر مجبور کیا۔

چنانچہ 25 مارچ 1964 کو اس وقت کے صدر جمال عبدالناصر کے حکم پر ریڈیو قرآن قاہرہ کا آغاز ہوا۔ اس کا پہلا نشریاتی مواد حفص عن عاصم کے مطابق تلاوتِ قرآن تھا جو تین عظیم قرّاء شیخ مصطفی اسماعیل، محمد صدیق المنشاوی اور عبدالباسط عبدالصمد کی آواز میں نشر کیا گیا۔ بعد میں شیخ محمود علی البنا کی تلاوت بھی شامل کر لی گئی۔
نونہال قاری کی شاندار کارکردگی
پروگرام کی پانچویں قسط میں ننھے مصری قاری عمر علی عوض محمد نے متاثر کن تلاوت پیش کی جس نے ججوں اور سامعین دونوں کی توجہ اور داد حاصل کی۔

تلاوت کے وقف پر بحث — متنازع لمحہ
اس قسط کا ایک اور نمایاں اور متنازع حصہ وہ تھا جب مقابلے میں شریک قاری شیخ محمد سامی نے آیت کریمہ:
﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ﴾ (سورۃ البقرہ: 186) "اور (اے نبیؐ) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو کہہ دو کہ میں قریب ہوں۔ جب کوئی مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار سنتا اور قبول کرتا ہوں"
تلاوت کی جس پر وقف کے مسئلے پر بحث چھڑ گئی۔

شیخ طہ ، دولت پروگرام میں
جب جج شیخ طہ نعمانی نے وقف کے جواز پر وضاحت پیش کی تو قاری محمد سامی نے جواب دیا کہ "آیت کا آغاز اُجِیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ سے کرنا اور جہاں وقف ممکن ہو وہاں رکنا جائز ہے۔
اس جواب پر طہ نعمانی نے مزید رہنمائی کرتے ہوئے کہا: اگر آپ صحیح تلاوت چاہتے ہیں تو پہلے تفسیرِ قرآن پڑھیں، یہی آپ کو وقفِ صحیح کی طرف رہنمائی کرے گی۔/
4319768