آسٹریا اسلامی ادارے نے خواتین پر تشدد کی مذمت کردی

IQNA

آسٹریا اسلامی ادارے نے خواتین پر تشدد کی مذمت کردی

6:32 - December 03, 2025
خبر کا کوڈ: 3519590
ایکنا: جمعیت اسلامی اتریش نے نے زور دیا ہے کہ مساجد و اسلامی ادارے اس بات کے پابند ہیں کہ تمام خواتین کے لیے محفوظ، محترمانہ اور معاون ماحول کو فروغ دیں۔

ایکنا نیوز، muslimsaroundtheworld  نیوز کے مطابق جمعیت اسلامی اتریش نے واضح کیا ہے کہ مذہبی، ثقافتی یا سماجی کسی بھی بنیاد پر تشدد کی کوئی قسم قابلِ قبول یا قابلِ جواز نہیں۔ تنظیم نے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد پر اپنے دوٹوک مؤقف کا اعادہ کیا ہے۔ اس مؤقف کی تجدید "تشددِ مبتنی بر جنسیت کے خلاف 16 روزہ عالمی مہم" کے سلسلے میں کی گئی، جو ہر سال 25 نومبر سے 10 دسمبر تک جاری رہتی ہے۔

تنظیم نے مسلمانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ہوشیار رہیں، عملی قدم اٹھائیں اور متاثرہ خواتین کی مدد کریں۔ بیان میں کہا گیا کہ تشدد کا شکار خواتین اور لڑکیوں کو کبھی بھی اکیلا نہ چھوڑا جائے۔ اس تنظیم نے یہ بھی یاد دہانی کرائی کہ مساجد اور اسلامی مراکز کی ذمہ داری ہے کہ وہ خواتین کے لیے محفوظ، احترام پر مبنی اور مددگار ماحول پیدا کریں۔ ادارے نے اُن مشاورتی اور مددگار خدمات کا بھی ذکر کیا جو متاثرہ خواتین کو خفیہ مدد فراہم کرتی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ حالیہ برسوں میں یورپ میں خواتین کے خلاف تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ تشدد مختلف صورتیں اختیار کر چکا ہے، جن میں گھریلو تشدد، ہراسانی، آن لائن استحصال اور صنفی بنیاد پر جرائم شامل ہیں۔ یہ صورتِ حال اُن ساختیاتی چیلنجوں کی نشان دہی کرتی ہے جو سماجی و اقتصادی تبدیلیوں کے ساتھ منصۂ شہود پر آ رہے ہیں۔

تنظیم نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے مذہب، قانون اور انسانی حقوق کے باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔ یہ نقطہ نظر اس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ مسلمان افراد تشددِ جنسیت کے خاتمے میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں، اور مساجد و اسلامی ادارے شعور بیدار کرنے اور خواتین کے حقوق کا احترام کرنے والے معاشرے کی تشکیل میں محفوظ جگہوں کا کردار ادا کریں۔

قابلِ ذکر ہے کہ "تشددِ جنسیت کے خلاف 16 روزہ مہم" 1991 میں امریکہ کی رٹگرز یونیورسٹی کے "ویمنز گلوبل لیڈرشپ سینٹر" نے شروع کی تھی۔ اس مہم کا مقصد خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے بارے میں آگاہی بڑھانا اور ہر قسم کے امتیاز و استحصال کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔ یہ مہم 10 دسمبر، یعنی عالمی یومِ انسانی حقوق تک جاری رہتی ہے اور خواتین کے تحفظ اور بنیادی انسانی حقوق کے باہمی تعلق کو اجاگر کرتی ہے۔/

 

4320265

نظرات بینندگان
captcha