
ایکنا نیوز- اناطولیہ نیوز کے مطابق، جرمنی کے صوبہ ہیسن کی ایک عدالتی کمیٹی نے فیصلہ دیا ہے کہ حجاب عدالتوں میں ریاست کی غیر جانب داری کو متاثر کرتا ہے، اس لیے ایک باحجاب مسلمان خاتون کو جج کے طور پر خدمات انجام دینے کی اجازت نہیں دی گئی۔
ہیسن کی انتظامی عدالت نے پیر کے روز اپنا فیصلہ سناتے ہوئے متعلقہ حکام کے اس اقدام کی توثیق کی، جس میں اس خاتون کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔
دارمشتات کی عدالت نے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ یہ درخواست گزار وکیل اپنے مذہبی آزادی کے آئینی حق کی حامل ہے؛؛؛؛، تاہم عدالت کا کہنا تھا کہ یہ حق دیگر قوانین—بشمول ریاست کی غیر جانب داری اور عدالت میں موجود دیگر افراد کی مذہبی آزادی—کے ماتحت ہے۔
عدالتی بیان کے مطابق، درخواست کے انٹرویو کے دوران خاتون سے پوچھا گیا کہ کیا وہ عدالتی کارروائی کے دوران اسکارف ہٹائیں گی؟ خاتون نے واضح جواب دیا کہ وہ ایسا نہیں کریں گی۔
اسی بنیاد پر ہیسن کے حکام نے ان کی درخواست رد کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی کارروائی کے دوران مذہبی علامت کے طور پر حجاب پہننا ریاستی غیر جانب داری کے اصول کی خلاف ورزی ہے اور یہ عمل عدالتی نظام پر عوام کے اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔
اکتوبر میں بھی جرمنی کی ریاست نیدرزاکسن کی ایک عدالت نے اسی نوعیت کا فیصلہ سنایا تھا، جہاں ایک باحجاب خاتون جج کو "غیر روحانی جج" کے طور پر تقرری سے محروم کر دیا گیا تھا۔
براونشوائگ کی علاقائی اعلیٰ عدالت نے قرار دیا کہ ریاستی قانون ججوں کو سیاسی، مذہبی یا نظریاتی علامتوں کے واضح اظہار سے روکتا ہے—اور یہ پابندی غیر روحانی (Lay judges) ججوں پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوتی ہے۔
ناقدین کے ردِعمل
مذہبی آزادی کے حامیوں نے ان فیصلوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی میں ریاستی غیر جانب داری کی تشریح، غیر جانب داری کے بجائے امتیاز کا آلہ بن چکی ہے۔

ان کے مطابق، ایسے فیصلے بالخصوص مسلمان خواتین کو ہدف بناتے ہیں اور انہیں عدالتی پیشوں اور سرکاری خدمات میں حصہ لینے سے نہ صرف روکتے ہیں بلکہ متعدد رکاوٹیں بھی پیدا کرتے ہیں۔/
4320601