
ایکنا نیوز کے مطابق، عبدالعزیز عبدالحسین ساشادینا (پیدائش 1942) گزشتہ روز 83 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔
وہ اسلامک کمپیریٹو اسٹڈی، شیعہ عقائد، اخلاقیاتِ حیاتی (Bioethics) اور انسانی حقوق کے نمایاں ترین مسلم محققین میں شمار ہوتے تھے۔ وہ مشرقی افریقہ کے ملک تنزانیہ میں ایک شیعہ، بھارتی نژاد خاندان میں پیدا ہوئے اور اپنی ابتدائی تعلیم بھی وہیں حاصل کی۔ ان کا یہ کثیرالثقافتی ماحول ابتدا ہی سے ان کے ذہن کو شناخت، قبولِ دیگر اور بین المذاہب گفتگو جیسے سوالات کی طرف متوجہ کرتا رہا،ایک ایسا فکری رجحان جو ان کی پوری علمی زندگی میں جاری رہا۔
ذیل میں ایکنا کے ساتھ ان کا وہ انٹرویو پیش ہے جو ۱۳۹۴ میں کیا گیا تھا۔
پروفیسر ساشادینا، جو تہران میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس "قرآن کریم سیرت و افکار امام خمینیؒ کے رو سے" میں شرکت کے لیے آئے تھے، نے ایکنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس میں ان کی شرکت کا مقصد امام خمینیؒ اور قرآن کریم کے باہمی تعلق پر ایک مقالہ پیش کرنا ہے۔
ساشادینا نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا: امام خمینی کے نزدیک قرآن ایک عظیم الہامی سرچشمہ ہے اور ان کا پیغام، جو قرآن سے ہی اخذ کیا گیا ہے، آفاقی نوعیت رکھتا ہے، جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ہے۔ میں اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ کہہ سکتا ہوں کہ آج کی دنیا میں اگر کوئی انسان کی روحانی حقیقت اور قرآن کے بیان کردہ معنوی پیغام پر غور کرے، تو وہ امام خمینیؒ کے اس پیغام سے دل لگا سکتا ہے جو قرآن سے ماخوذ ہے۔
ساشادینا نے سورہ اسراء کی آیت 70 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ..." یعنی اللہ نے تمام انسانوں کوان کے جنس، نسل، قوم، مذہب یا کسی اور امتیاز کے بغیرعزت اور تکریم عطا کی ہے۔ قرآن میں لفظ "آدم" ایک عام معنوی مفہوم رکھتا ہے، یعنی تمام انسان۔ یہی قرآن کی روح ہے، جو امام خمینیؒ کے پیغام میں بھی نمایاں نظر آتی ہے۔/
4320954