برطانیہ؛ ٹرانسپورٹ میں اسلام فوبیا کے اثرات

IQNA

برطانیہ؛ ٹرانسپورٹ میں اسلام فوبیا کے اثرات

22:49 - January 06, 2026
خبر کا کوڈ: 3519760
ایکنا: اخبار گارڈین کے مطابق انگلستان میں عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام میں نسل اور مذہب کی بنیاد پر نفرت انگیز جرائم میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ایکنا نیوز- العرب فی بریطانیا نیوز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ گارڈین کو حاصل ہونے والے تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ انگلستان کی عوامی ٹرانسپورٹ میں نسلی اور مذہبی بنیادوں پر نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث نشانہ بننے والی بعض کمیونٹیز کے افراد نے اپنی روزمرہ آمد و رفت محدود کر دی ہے یا حملوں اور بدسلوکی کے خوف سے سفری معمولات تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

یہ معلومات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ عوامی ٹرانسپورٹ میں ہونے والے حملوں کی نوعیت خاص طور پر تشویشناک ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ بعض حملہ آور شراب کے زیرِ اثر زیادہ جری ہو جاتے ہیں اور بس یا ٹرین کے ڈبے کے اندر ہی اپنے شکار پر حملہ کر کے اگلے اسٹیشن پر فوراً اتر جاتے ہیں۔

جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، برطانوی ٹرانسپورٹ پولیس کی جانب سے انگلستان، ویلز اور اسکاٹ لینڈ میں درج کیے گئے نسلی بنیادوں پر نفرت انگیز جرائم کی تعداد 2019–2020 میں 2,827 تھی، جو بڑھ کر 2024–2025 میں 3,258 تک پہنچ گئی ہے۔

اسی عرصے کے دوران مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز جرائم میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان واقعات کی تعداد 2019–2020 میں 343 سے بڑھ کر 2023–2024 میں 419 ہو گئی، اگرچہ 2025 میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی اور یہ تعداد 372 تک آ گئی۔

رپورٹس کے مطابق، اسکاٹ لینڈ میں نسلی بنیادوں پر جرائم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ انگلستان اور ویلز میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے مذہبی نفرت انگیز جرائم میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مسلم کونسل آف برطانیہ کے مطابق، سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کلامی اور جسمانی حملوں کا نشانہ اسکول جانے والے بچے بھی بن رہے ہیں۔ تنظیم نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ بسوں اور کئی اسٹیشنوں پر سی سی ٹی وی کی عدم موجودگی حملہ آوروں کو بار بار قانونی کارروائی سے بچ نکلنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

اس صورتحال پر ردِعمل دیتے ہوئے برطانوی ٹرانسپورٹ پولیس کے ترجمان نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ بدسلوکی، دھمکی آمیز رویے اور تشدد—خصوصاً نفرت پر مبنی تشدد—ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، اور پولیس ریلوے نیٹ ورک میں نفرت انگیز جرائم کی رپورٹس موصول ہوتے ہی فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرتی ہے۔

انہوں نے متاثرین اور عینی شاہدین سے اپیل کی کہ وہ خاموش نہ رہیں، اور ہر اس شخص سے گزارش کی جس نے کوئی ناخوشگوار واقعہ خود جھیلا ہو یا دیکھا ہو، کہ وہ اس کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دے۔/

 

4327001

نظرات بینندگان
captcha