
ایکنا نیوز- الکفیل نیوز چینل کے مطابق تیسرے بین الاقوامی ایوارڈ برائے تلاوتِ قرآنِ کریم ’’عمید‘‘ کے آٹھویں مرحلے کا انعقاد عراق، انڈونیشیا اور افغانستان کے قراء کی شرکت سے کیا گیا۔ یہ مقابلہ آستانہ مقدس عباسی سے وابستہ مجمعِ علمی قرآنِ کریم کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا، جس میں 20 عرب اور دیگر ممالک کے قراء نے حصہ لیا۔
اس مرحلے کی بین الاقوامی جیوری کمیٹی میں شیخ محمد بسونی (مصر)، شیخ باسم العابدی (عراق)، ڈاکٹر مشتاق العلی (عراق)، شیخ محمد عصفور (مصر)، حسنین الحلو (عراق) اور شاعر کریم موسوی (ایران) شامل تھے، جنہوں نے مقابلے کی نگرانی کی۔
بزرگوں کے گروپ میں انڈونیشیاء کے قاری مامان سیتاوان اور افغانستان کے قاری جواد حسنی نے شرکت کی، جن میں سے جائزے کے بعد افغان قاری اگلے مرحلے کے لیے منتخب ہوگئے۔ نوعمر گروپ میں عراق کے قاری محمد علی صادق نے مقابلہ جاری رکھا۔
اس مرحلے میں لبنانی مصنف اور ہدایت کار رضا الرز کی شرکت بھی قابلِ ذکر رہی۔ انہوں نے قرآنِ کریم کو اپنی تخلیقات کا بنیادی سرچشمہ قرار دیا اور بتایا کہ ان کا تازہ ترین کام بچوں کے لیے ایک ڈراما ہے جو قرآنی اقدار کو فروغ دیتا اور بچوں کو قرآن سیکھنے، پڑھنے اور حفظ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ رضا الرز نے زور دیا کہ قرآن سے تعلق تدبر، شعور اور اسے طرزِ زندگی بنانے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک سال سے زائد عرصہ قبل لبنان میں ’’پیجر‘‘ دھماکوں کے نتیجے میں وہ اپنی بینائی اور بائیں ہاتھ سے محروم ہوگئے تھے، تاہم انہوں نے مصنوعی ذہانت اور الیکٹرانک مطالعے جیسی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنی قرآنی اور فنی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔
مقابلہ ’’عمید‘‘ آستانِ مقدس عباسی کی جانب سے ثقافتِ قرآن کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں سے ایک ہے، جس کا مقصد قرآن کو فرد اور معاشرے کے لیے مضبوط اور پائیدار رہنما کے طور پر متعارف کرانا ہے۔/
.


4337033