ایکنا نیوز کے نمایندے نے اس مقدس مہینے کی مناسبت سے سلسلہ وار گفتگو میں علیاکبر توحیدیان (قرآنی محقق اور علومِ قرآن و حدیث میں ڈاکٹریٹ) کے ساتھ برہانِ نظم پر گفتگو کی ہے۔ اس میں شب و روز اور اجرامِ فلکی کی گردش میں نظم، کائناتی ترتیب کا حکمت و قدرتِ الٰہی کے اثبات سے تعلق، اور قدرتی قوانین و سمندری حمل و نقل کی نعمت کا الٰہی ہدایت میں کردار، حجت الاسلام والمسلمین محسن قرائتی کی تفسیر کی روشنی میں زیرِ بحث آیا۔
ایکنا: آیات 37 تا 40 سورۂ یٰسین شب، روز، سورج اور چاند کے بارے میں خدا شناسی اور برہانِ نظم کے حوالے سے کیا نکات پیش کرتی ہیں؟
آیت 37 میں ارشاد ہوتا ہے: «وَآيَةٌ لَهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُمْ مُظْلِمُونَ» ترجمہ: “اور رات بھی ان کے لیے ایک نشانی ہے، ہم اس سے دن کو کھینچ لیتے ہیں، تو اچانک وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔”
یعنی رات بھی انسانوں کے لیے ایک نشانی ہے۔ «نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ» کا مطلب ہے کہ ہم دن کو رات سے اس طرح جدا کرتے ہیں جیسے جانور کی کھال اتاری جاتی ہے۔ لفظ «نَسْلَخُ» مادہ سلخ سے ہے، جو کھال اتارنے کے معنی میں آتا ہے۔ یہ تعبیر قدرتی مظاہر پر خدا کے دقیق کنٹرول اور کائنات میں منظم و حساب شدہ نظام کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان مظاہر میں غور کرنے سے انسان کے اندر خدا شناسی کا جذبہ مضبوط ہوتا ہے۔
آیت 38 میں سورج کے بارے میں فرمایا گیا: «وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» ترجمہ: اور سورج اپنے ٹھہراؤ کے مقام کی طرف رواں دواں ہے۔ یہ غالب اور خوب جاننے والے (اللہ) کا مقرر کردہ نظام ہے۔
سورج مسلسل حرکت میں ہے اور اپنے معین مدار کی طرف رواں ہے۔ یہ اس قدیم تصور کے برخلاف ہے جس میں سورج کو ساکن سمجھا جاتا تھا۔ قرآن بتاتا ہے کہ کائنات میں کوئی چیز جامد نہیں بلکہ سب حرکت میں ہیں۔ «ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ» یعنی یہ نظام اس خدا کی تقدیر ہے جو غالب بھی ہے (جس کے نظام میں کوئی خلل نہیں ڈال سکتا) اور علیم بھی ہے (جس کا نظام علم و حکمت پر مبنی ہے)۔
آیت 39 میں چاند کا ذکر ہے: «وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ» ترجمہ: اور ہم نے چاند کے لیے منزلیں مقرر کیں، یہاں تک کہ وہ پرانی کھجور کی شاخ کی طرح (باریک اور خمیدہ) ہو جاتا ہے۔”
چاند کے بھی معین مراحل اور گردش ہے، جو تدریجی طور پر ہلال سے بدر اور پھر دوبارہ باریک ہلال کی شکل اختیار کرتا ہے۔
آیت 40 میں فرمایا گیا: «لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ ۚ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» ترجمہ: نہ سورج کے لیے ممکن ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے، اور سب اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔
خداوند نے سورج اور چاند کے لیے حدود اور مخصوص حرکت مقرر کی ہے؛ کوئی ایک دوسرے پر سبقت نہیں لے سکتا اور نہ ہی نظام میں خلل ڈال سکتا ہے۔ «وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» یعنی سب اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔ لفظ «يَسْبَحُونَ» (سبح) تیز اور منظم حرکت کے معنی میں ہے، جو کائنات کے مربوط اور دقیق نظام کو واضح کرتا ہے۔
4337314