ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق، عبدالباری عطوان، مدیر اعلیٰ رأی الیوم نے کہا کہ ایران نہ صرف یہ کہ اقتدار کے خلا کا شکار نہیں ہوا بلکہ قیادت کی قانونی منتقلی کے عمل کو فوری طور پر شروع کرتے ہوئے اور وسیع میدانی جوابی کارروائیاں انجام دے کر ایک نئے علاقائی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
انہوں نے بیان کیا کہ سید علی خامنہای، رہبرِ معظمِ اسلامی جمہوریہ ایران نے “اپنے گھر میں شہادت کو قبول کیا” اور خطرات کے باوجود ملک ترک نہیں کیا اور نہ ہی تسلیم ہوئے۔
عطوان نے اتوار کے روز پلیٹ فارم ایکس (X) پر اپنے ذاتی صفحے پر لکھا کہ اس واقعے نے ظاہر کیا کہ ایران ایک ادارہ جاتی نظام پر قائم ملک ہے، جو اپنے بحرانوں کو آئینی اور قانونی دائرے میں سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران کا جواب محض سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہا بلکہ میدانِ عمل میں بھی نمایاں ہوا، جس میں اسٹریٹجک اہداف پر میزائل حملے شامل تھے؛ ان میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز USS Abraham Lincoln (CVN-72) کو نشانہ بنانے کا دعویٰ اور خلیج فارس، اقلیم کردستان اور قبرص میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے شامل ہیں۔
عطوان کے مطابق ان کارروائیوں سے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو وسیع نقصان پہنچا۔
مزید برآں، انہوں نے صہیونی فوج اور امریکی افواج میں ہلاکتوں میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں شہر تل ابیب کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر “فتاح” نامی ہائپرسونک میزائل کے استعمال کے باعث، جو دفاعی نظاموں کو عبور کرتے ہوئے انتہائی دقت کے ساتھ اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
4337792