ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین محسن قرائتی، نے گزشتہ دنوں میں صہیونی رژیم کے حملے کا ذکر کرتے ہوئے، جس میں میناب کے گرلز پرائمری اسکول "شجرۂ طیبہ" کو نشانہ بنایا گیا اور متعدد طالبات شہید ہوئیں، کہا: ہم قرآن کے معلم ہیں اور ہمیں قرآن کی منطق میں گفتگو کرنی چاہیے۔ قرآنِ کریم انسانی کرامت، خصوصاً بیٹیوں کے مقام، پر اس قدر زور دیتا ہے کہ عہدِ جاہلیت میں بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کے خلاف پکار اٹھتا ہے اور فرماتا ہے: ‘کس گناہ پر انہیں قتل کیا گیا؟
انہوں نے مزید کہا: اس دور میں جب بعض لوگ بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے، اللہ تعالیٰ نے پُرزور لہجے میں ان کی مظلومیت کا دفاع کیا۔ آج بھی جب کمسن بچیاں ایک پرائمری اسکول میں بمباری کا نشانہ بنتی ہیں اور شہید ہو جاتی ہیں، تو یہ وہی مظلومیت ہے جو بیدار ضمیروں کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔
نماز کمیٹی کے سربراہ نے کہا: ان طالبات کی شہادت دشمنانِ اسلام کے اصل چہرے پر ایک اور دستاویز ہے۔ ان معصوم بیٹیوں کا خون ظلم و بربریت کے خلاف ایک للکار ہے۔ اللہ خود اس مظلومیت کا گواہ ہے اور اس نے وعدہ کیا ہے کہ بالآخر دنیا عدل و انصاف سے بھر دی جائے گی۔
انہوں نے تاکید کی کہ جو لوگ انسانی حقوق کا نعرہ لگاتے ہیں، وہ معصوم بیٹیوں کی شہادت پر خاموش کیوں ہیں؟
4338013