
ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق عبداللطیف میراسا، ایگزیکٹو سربراہ قرآنی رستوفاونڈیشن ملایشیاء نے کہا کہ اس فاؤنڈیشن کے قیام کا ابتدائی مقصد ملک کے اندر کتابِ خدا کی خدمت کرنا تھا، لیکن اب یہ فاؤنڈیشن قرآن کریم کے 50 سے زائد زبانوں میں ترجمہ شائع کر چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا : ہم نے اپنا سفر 40 سال قبل جوانی میں شروع کیا۔ اس وقت میں پینانگ ریاست کا وزیر تھا اور آج کے وزیراعظم انور ابراہیم، اُس وقت ریاست کے نائب وزیر اعظم تھے۔ ہم نے مل کر کام کیا اور پہلی قرآن کریم کی طباعت 1997 میں کی، جس کا نام ہم نے مصحف ملایشیاء رکھا کیونکہ اسے ملایشین ماہر خطاطوں نے کتابت کیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا مقصد یہ تھا کہ یہ مصحف ملایشیاءا کی ثقافت اور فن کا نمائندہ ہو، اور ہم مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک میں شائع ہونے والے مصاحف کا جائزہ لے کر چاہتے تھے کہ یہ بصری لحاظ سے اور رنگوں میں منفرد ہو۔ اسی لیے ہم نے ملایشین خوشخطوں اور فنکاروں جیسے حسن چلبی اور دیگر معروف خوشخطوں کی خدمات حاصل کیں۔
عبداللطیف میراسا نے کہا کہ پہلے مصحف ملایشیاء کی طباعت میں پانچ سال لگے۔ ہم نے مواد، رنگوں اور ڈیزائن کے انتخاب پر وسیع مطالعہ کیا، جس کے لیے بہت سے میوزیمز اور تحقیقی مراکز کے دورے ضروری تھے۔ اس میں قرآنی فنون کے ماہرین کی مدد بھی شامل تھی۔ مجموعی طور پر میں نے ایک خوبصورت اور قابلِ شایستہ مصحف کی طباعت پر 10 سال صرف کیے، جسے ہم نے 'مصحف مالیزیا' کہا۔
انہوں نے آخر میں کہا: آج کام ہمارے لیے بہت آسان ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر وزیراعظم چاہیں کہ ہم اٹلی کے لیے مخصوص قرآن شائع کریں تو ہم چند ہفتوں میں یہ کام کر سکتے ہیں کیونکہ ہمیں ضروری مہارت حاصل ہو گئی ہے۔ یہ کام اب افراد پر منحصر نہیں رہا اور ہم دنیا بھر کے لوگوں کے لیے قرآن شائع کر سکتے ہیں۔