قرآن کریم میں جنگ بارے آسمانی اور زمینی روایت

IQNA

صھیونیوں سے جنگ، قرآنی تجزیہ/ 1

قرآن کریم میں جنگ بارے آسمانی اور زمینی روایت

12:24 - March 07, 2026
خبر کا کوڈ: 3520055
قرآنِ کریم زمینی اعداد و شمار اور تجزیات کے ساتھ جنگوں کے تجزیے کے لیے ہمارے سامنے ایک اور زاویہ بھی پیش اور تحولات کو سمجھنے اور محورِ مقاومت کے راز کو جاننے کی کلید فراہم کرتا ہے۔

ایکنا نیوز- یادداشتوں کے ایک سلسلے میں ہمارا ارادہ ہے کہ حالیہ واقعات، خصوصاً ایران پر امریکہ اور صہیونیوں کے وحشیانہ حملے کا تجزیہ قرآنِ کریم کی آیات کی روشنی میں کریں۔ ہر واقعے کو دو زاویوں سے بیان کیا جا سکتا ہے: ایک زمینی روایت اور دوسری آسمانی روایت۔ مثال کے طور پر کسی جنگ کے تجزیے میں ایک زمینی روایت ہوتی ہے جس کا ایک حصہ اعداد و شمار سے متعلق ہوتا ہے؛ جیسے کتنے میزائل داغے گئے یا دشمن کے کتنے افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اس زمینی روایت کی اپنی منطق ہوتی ہے۔ قرآنِ کریم بھی اس حوالے سے فرماتا ہے: «وَأَعِدّوا لَهُم مَا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ» (الانفال: 60)

یعنی میدانِ جنگ میں داخل ہونا حکمتِ عملی، منطق اور ضروری سازوسامان کے ساتھ ہونا چاہیے اور بغیر سوچے سمجھے خطرے میں نہیں کود پڑنا چاہیے۔

لیکن یہ کہانی کا صرف ایک حصہ ہے۔ اس کے ساتھ ایک آسمانی روایت بھی موجود ہوتی ہے۔ قرآنِ کریم میں اس آسمانی روایت کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ اس کی ایک زندہ مثال ہمارے لیے قیامِ عاشورا اور امام حسینؑ کی سیرت ہے۔ زمینی روایت میں حضرت اپنے ساتھیوں کے ساتھ شہید ہوئے اور اہلِ بیت اسیر بنائے گئے، لیکن آسمانی روایت میں مکتبِ سید الشہداءؑ امتِ اسلامی کے لیے نجات اور ہدایت کی کشتی بن گیا۔

ایران میں حالیہ واقعات کے تناظر میں بھی، تمام سختیوں، اضطراب اور ان شہداء کے باوجود جنہوں نے اپنے خون سے اس سرزمین کو سیراب کیا، ہمیں آسمانی روایت پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ اگرچہ زمینی اور آسمانی دونوں روایتیں سپاہِ اسلام کی نصرت اور کامیابی کی خبر دیتی ہیں، لیکن اہلِ ایمان کے لیے زیادہ امید افزا اور یقینی امر الٰہی سنتوں کا مطالعہ اور جنگوں کی آسمانی روایت ہے۔

نظرات بینندگان
captcha