
ایکنا نیوز- ایک شخص نے امام جعفر صادقؑ سے پوچھا کہ شیعہ عقیدے کے مطابق امیرالمؤمنین حضرت علیؑ نے سقیفہ کے واقعہ کے وقت جنگ کیوں نہیں کی؟ امامؑ نے جواب میں اسی آیتِ مبارکہ کا حوالہ دیا۔ راوی نے پوچھا کہ مؤمنوں اور کافروں کے جدا ہونے سے کیا مراد ہے؟
امامؑ نے فرمایا: کافروں کی نسلوں میں مؤمنین کی امانتیں موجود ہیں۔ حضرت قائمؑ (امام مہدیؑ) کے ظہور کا معاملہ بھی اسی طرح ہے۔ جب تک یہ الٰہی امانتیں کافروں کی پشتوں سے ظاہر نہیں ہو جاتیں، اس وقت تک حضرت ظہور نہیں فرمائیں گے۔ لیکن جب یہ امانتیں ظاہر ہو جائیں گی تو اس کے بعد حضرت ظہور کریں گے اور اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل کریں گے۔
درحقیقت راوی کا سوال یہ تھا کہ اگر امیرالمؤمنینؑ سقیفہ کے موقع پر جنگ کا علم بلند کرتے تو ظاہر ہے کہ وہ چند افراد سے جنگ کرتے، لیکن اپنی خلافت کے زمانے میں آپ کو ہزاروں لوگوں کے ساتھ جنگ کرنا پڑی۔ اس تاخیر کا راز یہ تھا کہ الٰہی امانتوں کو نشوونما کا موقع دیا جائے؛ یعنی ایسے افراد جو ہدایت اور رشد کی صلاحیت رکھتے تھے مگر ابھی انہیں ترقی اور پرورش کا موقع نہیں ملا تھا۔
اسی طرح رسولِ اکرم ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر اہلِ مکہ سے انتقام لینے کی اجازت نہیں دی، تاکہ مستقبل کے بعض فتنوں کی بنیادیں نہ پڑیں؛ کیونکہ مکہ کے لوگوں اور ان کی نسلوں میں ایسے افراد موجود تھے جو بعد میں مؤمن بننے والے تھے۔
تاہم دینی غربال (چھانٹی) ایک ایسا عمل ہے جو فطری طور پر وقت لیتا ہے۔ بہت مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جہاں زوال یا گمراہی پیدا ہوتی ہے وہیں ہدایت اور نشوونما پیدا نہیں ہوتی؛ یعنی ممکن ہے کہ زوال ہمارے قریب ہو، مگر رشد اور بیداری دنیا کے کسی دوسرے حصے میں ہو۔
جیسے آج مغرب میں بہت سے آزاد انسان اسرائیل کے مظالم ، جن میں ایران پر حملہ اور بے پناہ لوگوں پر ظلم بھی شامل ہے، کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں، جبکہ کچھ محدود لوگ اسرائیل کا پرچم لہرا کر خوشی مناتے اور جشن مناتے نظر آتے ہیں۔