
ایکنا کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ معظم انقلاب کی شہادت کے ایک ہفتے بعد مجلس خبرگانِ رہبری نے آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہای کو اسلامی جمہوریہ ایران کے تیسرے رہبر کے طور پر متعارف کرا دیا ہے۔
مجلس خبرگانِ رہبری کے بیان کا متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ملتِ شریف اور آزادہ ایرانِ اسلامی! آپ پر خداوند متعال کا سلام اور رحمت ہو۔
مجلس خبرگانِ رہبری عظیم المرتبت قائد حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہای (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) اور دیگر گرانقدر شہداء، بالخصوص اعلیٰ مقام فوجی کمانڈروں، مسلح افواج کے جانثار افراد، اور میناب شہر کے مدرسہ شجرہ طیّبہ کے طلبہ کی شہادت پر تعزیت پیش کرتے ہوئے، اور مجرم امریکہ اور خبیث صہیونی رژیم کی وحشیانہ جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے عوام کو آگاہ کرتی ہے کہ رہبرِ فرزانہ و حکیم انقلاب اسلامی کی شہادت اور عروجِ ملکوتی کی خبر نشر ہوتے ہی، سخت جنگی حالات، اس عوامی ادارے کے خلاف دشمنوں کی براہِ راست دھمکیوں اور مجلس خبرگان کے سیکرٹریٹ کے دفاتر پر بمباری کے باوجود، اس مجلس نے اسلامی نظام کی قیادت کے انتخاب اور تعارف کے عمل میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کی۔
یہ مجلس ان الٰہی اور عوامی رہنماؤں کی یاد کو گرامی رکھتے ہوئے اعلان کرتی ہے کہ تفصیلی اور وسیع جائزے کے بعد اور آئین کے آرٹیکل 108 کی گنجائش سے استفادہ کرتے ہوئے، اپنی شرعی ذمہ داری اور خداوند متعال کی بارگاہ میں جواب دہی کے احساس کے ساتھ، آج کے ہنگامی اجلاس میں آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہای (حفظہ اللہ) کو مجلس خبرگان کے معزز نمائندوں کی قاطع اکثریت کے ووٹ سے اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کے تیسرے رہبر کے طور پر منتخب اور متعارف کرایا جاتا ہے۔
آخر میں آئین کے آرٹیکل 111 کے تحت قائم عبوری کونسل کے اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، ایران کی شریف قوم خصوصاً حوزہ و جامعہ کے دانشوروں اور اہلِ علم کو قیادت کے ساتھ بیعت اور ولایت کے محور کے گرد قومی اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھنے کی دعوت دی جاتی ہے، اور خداوند متعال سے اس ملک اور اس عظیم قوم پر اپنی خاص عنایات کے تسلسل کی دعا کی جاتی ہے۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سیکرٹریٹ مجلس خبرگانِ رہبری