صہیونیزم سے جنگ کا تجزیہ قرآن کے رو سے/ 3

IQNA

صہیونیزم سے جنگ کا تجزیہ قرآن کے رو سے/ 3

11:12 - March 09, 2026
خبر کا کوڈ: 3520066
مومنین کے «تمحیص یا تطہیر» سے «محق یا زوال» کفار؛ تک چوٹی پر رسائی کا قرآنی منطق

انقلاب کے شہید رہبر کے نزدیک “چوٹی کے قریب پہنچنا” دراصل الٰہی سنت کے مطابق معاشرے کی موجودہ کیفیت کی تصویر کشی تھی۔ اگرچہ یہ مرحلہ راستے کا سب سے زیادہ تھکا دینے والا حصہ ہوتا ہے، لیکن ظاہر ہوتی ہوئی نشانیاں ایک بڑی فتح کے قریب ہونے کی خبر دیتی ہیں۔

انقلابِ اسلامی کے شہید رہبر (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) نے مرداد 1402 میں فرمایا: ہم اس راستے کے بڑے حصے کو سخت ڈھلوان کے باوجود طے کر چکے ہیں اور اب چوٹیوں کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

کسی تاریخی چوٹی کے قریب ہونے کی بات ایک ایسے نظریۂ حیات اور طویل المدت افق پر مبنی ہے جو ایک طرف قرآنی اصولوں پر قائم ہے اور دوسری طرف میدان کی حقیقی صورتِ حال سے مربوط ہے۔ اس تحریر میں قرآن کے اصولوں خصوصاً "آزمائش کے اندر تربیت کی الٰہی سنت" کا تجزیہ کیا گیا ہے جو سورۂ آل عمران کی آیات 140–141 میں بیان ہوئی ہے۔ ان آیات میں سختیوں کو ایک فعال اور کئی مرحلوں پر مشتمل تربیتی عمل میں تبدیل کیا گیا ہے جو الٰہی مقاصد کو پورا کرتا ہے:

1۔ تشخیص اور جداسازی کا مرحلہ

"وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا" آزمائشوں اور دباؤ کے وقت حقیقی مؤمن اور محض دعویٰ کرنے والوں کے درمیان فرق واضح ہو جاتا ہے اور صفیں جدا ہو جاتی ہیں۔ آخری زمانے میں فتنوں کی شدت اسی لیے بڑھ جاتی ہے کہ جداسازی کا عمل تیز تر ہو جاتا ہے۔

2۔ نمونہ سازی اور ہدایت کے پرچم بلند کرنا

"وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ" جب سچے مؤمن پہچان لیے جاتے ہیں تو خدا ان میں سے ایسے گواہوں اور رہنماؤں کو منتخب کرتا ہے جو معاشرے کے لیے چراغِ راہ اور تحریک کا سبب بنتے ہیں۔ ان شہداء اور رہنماؤں کی قیادت  جیسے ایک شہید امام  یہ ظاہر کرتی ہے کہ پہلا مرحلہ کامیابی سے گزر چکا ہے اور معاشرہ پرچم اٹھانے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔

3۔ باطنی تطہیر اور خالص سازی

"وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا" بیرونی تطہیر (کفار سے جدائی) کے بعد مؤمنوں کی اندرونی تطہیر کا مرحلہ آتا ہے، یعنی جہادِ اکبر۔ مشکلات پر صبر انسان کو اندر سے نکھارتا ہے، اس کے تقویٰ کو گہرا کرتا ہے اور خدا سے اس کی وابستگی کو خالص بناتا ہے۔ یہی مرحلہ ایسے انسانوں کی تربیت کرتا ہے جو آخری فتح کے لائق ہوتے ہیں۔

4۔ کفر کا تدریجی خاتمہ

"وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ" "محق" کا مطلب تدریجی زوال اور تحلیل ہے۔ یہ زوال دو صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے:

اندرونی محق: باطل کے حامیوں کی کمزوری اور ٹوٹ پھوٹ۔

بیرونی محق: امریکی اور صہیونی سامراجی نظام کی ظاہری طاقت اور رعب کا ٹوٹنا۔

کافروں کا یہ زوال آہستہ ضرور ہوتا ہے، لیکن یقینی ہوتا ہے۔

درحقیقت چوٹی وہ مرحلہ ہے جہاں ایک معاشرہ طویل تربیتی مراحل سے گزرنے کے بعد بارآوری کے قریب پہنچتا ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو چوٹی کے قریب پہنچنا راستے کا سب سے زیادہ تھکا دینے والا حصہ ہوتا ہے؛ ایک ایسا مقام جہاں داخلی طاقت ختم ہوتی محسوس ہوتی ہے اور بیرونی دباؤ اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے۔

لیکن اندرونی نشانیاں ، جیسے بڑے گواہوں اور رہنماؤں کا ظہور (مثلاً شہید رہبر)  اور دشمن کے محاذ میں کمزوری کی علامتیں ، جیسے امریکی اور صہیونی مراکز میں بھاری ناکامیاں  اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ایک عظیم فتح قریب ہے۔

نظرات بینندگان
captcha