
ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق ماہِ مبارک رمضان کے آخری جمعہ کے موقع پر تہران اور پورے ملک میں یومِ عالمیِ قدس کی عظیم الشان ریلیاں چند لمحے قبل شروع ہو گئی ہیں۔ یہ ریلی، جو مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت اور غاصب صہیونی رژیم کے مسلسل جرائم کی مذمت کے لیے امتِ مسلمہ کی وحدت کی علامت سمجھی جاتی ہے، اس سال خاص حساسیت کے ساتھ ایسے حالات میں منعقد ہو رہی ہے جب عزیز ایران کو امریکی ـ صہیونی جارحیت کا سامنا رہا ہے۔
یہ پہلا یومِ قدس ہے جو شہید رہبر آیت اللہ سید علی خامنہای کی عدم موجودگی میں منایا جا رہا ہے۔ وہ ہمیشہ مسئلۂ فلسطین کی آواز بلند کرتے اور قدس کی آزادی اور صہیونی رژیم کے خاتمے کی بشارت دیتے رہے۔ اسی لیے عوام کی یہ شاندار شرکت دراصل ملتِ ایران کے شہید پیشوا کے ساتھ تجدیدِ عہد اور فلسطین کی آزادی کے مقصد کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار ہے۔
خطے میں گہری تبدیلیوں اور نظامِ استکبار اور صہیونی رژیم کی جانب سے حالیہ جارحیتوں کے پیش نظر اس سال کی یہ ریلی خاص اہمیت اور معنویت اختیار کر گئی ہے۔
روزہ دار مظاہرین نے ایران، غزہ اور لبنان میں امریکی ـ صہیونی محور کے مختلف النوع جرائم سے اپنی شدید نفرت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ملکی و عسکری ذمہ داران سے مطالبہ کیا کہ وہ عزت و وقار کے ساتھ مزاحمت کے راستے کو جاری رکھیں اور قابضین و جارحین کو سزا دیں۔
اس سال کا یومِ قدس حقیقتاً طاغوت کے چہرے پر ملت کے زوردار طمانچے کا ایک شاندار منظر بن گیا۔