
حضرت موسیٰؑ کی طرف سے بنی اسرائیل کو سرزمینِ مقدس میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تو وہاں موجود ایک طاقتور قوم کے خوف سے انہوں نے اس ذمہ داری سے گریز کیا اور کہا: جب تک وہ لوگ وہاں سے نکل نہیں جاتے، ہم ہرگز وہاں داخل نہیں ہوں گے۔ (المائدہ: 22)
لیکن قرآنِ کریم دو ایسے افراد کا ذکر کرتا ہے جن میں چند نمایاں صفات تھیں؛ پہلی یہ کہ وہ خدا سے ڈرنے والے تھے اور خدا کے سوا کسی سے خوف نہیں رکھتے تھے۔ دوسری یہ کہ «أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمَا» یعنی وہ اللہ کی ولایت اور نعمتِ الٰہی سے بہرہ مند تھے۔ ان دو صفات کا نتیجہ یہ تھا کہ انہیں کامل یقین تھا کہ جیسے ہی وہ دروازے سے داخل ہوں گے، ضرور کامیاب ہوں گے: «ادْخُلُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّكُمْ غَالِبُونَ» (المائدہ: 23)۔
یہ آیات ہمیں یہ حقیقت سمجھاتی ہیں کہ انسان کو جتنا زیادہ یقین اور ایمان حاصل ہو، اتنی ہی زیادہ اسے عمل کی طاقت ملتی ہے۔ یعنی توحید انسان کی قوت کو بے نہایت وسعت عطا کرتی ہے۔
قرآنِ کریم کے فرمان کے مطابق آسمانوں اور زمین کے تمام لشکر صرف اللہ کی ملکیت اور فرمانروائی کے تحت ہیں: «وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا»۔ اس حقیقت کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ہم فرعونیوں کے دریائے نیل سے گزرنے کے واقعے پر دوبارہ نظر ڈالتے ہیں۔
جب بنی اسرائیل رات کے وقت روانہ ہوئے تو چند دن کے بعد دریا تک پہنچ گئے۔ اچانک صورتِ حال اس طرح بنی کہ سامنے دریا تھا اور پیچھے فرعون کے عظیم مسلح لشکر۔ یہاں دو الگ زاویے سامنے آئے؛ ایک زمینی زاویہ، جس میں بنی اسرائیل نے کہا: ہم تو پکڑے گئے! «إِنَّا لَمُدْرَكُونَ»۔ اور دوسرا آسمانی زاویہ، جس میں حضرت موسیٰؑ نے جواب دیا: ہرگز نہیں! میرا پروردگار یقیناً میرے ساتھ ہے اور وہ عنقریب میری رہنمائی کرے گا: «كَلَّا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ»۔
جب دریا شق ہو گیا اور فرعونی لشکر اس کے اندر داخل ہوا تو جو چیز ان کی طاقت سمجھی جاتی تھی، وہی اچانک ان کے لیے کمزوری اور ہلاکت کا سبب بن گئی۔ ان کا جنگی ساز و سامان، یعنی ہتھیار اور بھاری زرہیں، جو لوہے کی تھیں، انہی کے غرق ہونے کا باعث بن گئیں۔ ان آیات کا مطلب یہ نہیں کہ انسان بے سوچے سمجھے جنگ شروع کر دے، بلکہ ان کا پیغام یہ ہے کہ تم حق، اقدار، حدودِ الٰہی اور اپنے خدائی فرائض پر ثابت قدم رہو؛ اور اگر تم پر جنگ مسلط کر دی جائے تو یقین رکھو کہ خدا تمہارے ساتھ ہے۔