سال نو کے آغاز پر رھبر معظم کا پیغام جاری

IQNA

سال نو کے آغاز پر رھبر معظم کا پیغام جاری

23:00 - March 21, 2026
خبر کا کوڈ: 3520088
اس سال کا نعرہ “قومی اتحاد اور قومی سلامتی کے سائے میں مقاومتی معیشت” قرار دیا گیا۔

رہبرِ معظم انقلاب نے سال ۱۴۰۵ کے آغاز پر اپنے پیغام میں فرمایا: عظیم شہید رہبر کی پیروی کرتے ہوئے ہم اس سال کا شعار "قومی اتحاد اور قومی سلامتی کے سائے میں مقاومتی معیشت"قرار دیتے ہیں۔ پیغام کا متن کچھ یوں ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یا مقلب القلوب والابصار یا مدبّر اللیل و النهار یا محوِّل الحول و الاحوال، حَوِّل حالَنا الی احسن الحال.

اے دلوں اور نگاہوں کو بدلنے والے، اے رات اور دن کے تدبیر کرنے والے، اے حالات کو تبدیل کرنے والے! ہمارے حال کو بہترین حال میں بدل دے۔

اس سال روحانیت کی بہار اور فطرت کی بہار یعنی عید سعید فطر اور عید نوروز ایک ساتھ آئی ہیں۔ میں ان دونوں مذہبی اور قومی عیدوں کی پوری قوم کو مبارکباد دیتا ہوں، خصوصاً عید فطر کی مبارکباد تمام مسلمانوں کو پیش کرتا ہوں۔ اسی طرح اسلام کے مجاہدین کی نمایاں کامیابیوں پر بھی سب کو مبارکباد دیتا ہوں اور جنگوں، سازشوں اور سکیورٹی کے میدان میں شہید ہونے والوں کے خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔

سال نو کے آغاز پر چند اہم باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں:

سب سے پہلے گزشتہ سال کے بعض اہم واقعات کا مختصر جائزہ لیتا ہوں۔ گزشتہ سال ہمارے عوام نے تین طرح کی جنگوں کا سامنا کیا۔ پہلی جنگ میں صہیونی دشمن نے امریکہ کی مدد سے حملہ کیا اور ہمارے کئی ممتاز کمانڈرز اور سائنسدانوں سمیت تقریباً ہزار افراد کو شہید کیا۔ دشمن کا خیال تھا کہ عوام نظام کے خلاف کھڑے ہو جائیں گے، مگر عوام کی بیداری اور مجاہدین کی بہادری نے اس کے منصوبے ناکام بنا دیے۔

دوسری جنگ دی ماہ کی بغاوت تھی جس میں امریکہ اور صہیونی نظام نے معاشی مشکلات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، مگر عوام نے اس سازش کو بھی ناکام بنایا۔

تیسری جنگ وہ ہے جو اب بھی جاری ہے، جس کے آغاز میں ہمارے عظیم رہبر شہید ہوگئے۔ اس کے بعد مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے بے شمار افراد شہید ہوئے۔ دشمن کا مقصد خوف اور مایوسی پیدا کرنا تھا، مگر آپ لوگوں نے روزے اور جہاد کو ساتھ ملا کر پورے ملک میں دفاعی محاذ قائم کیا اور دشمن کو حیران کر دیا۔

آپ نے پہلے بھی بغاوت کو کچلا، پھر ۲۲ بہمن کو اپنی استقامت دکھائی، اور یوم القدس پر دشمن کو واضح پیغام دیا کہ ایران کی طاقت صرف فوجی نہیں بلکہ عوامی بھی ہے۔ میں اس عظیم حماسہ پر آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں، خصوصاً ان ذمہ داران کا جو عوام کے درمیان سادگی سے موجود رہے۔ یہ طرزِ عمل قوم اور حکومت کے درمیان تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔

آج آپ کے درمیان جو اتحاد پیدا ہوا ہے وہ اللہ کی خاص نعمت ہے۔ اس پر شکر ادا کرنا ضروری ہے اور اس نعمت کو مضبوط کرنا چاہیے تاکہ دشمن مزید کمزور ہو۔

اب ہم نئے سال کے آغاز پر ہیں۔ ایک طرف ماہِ رمضان سے رخصتی ہے، جس میں آپ نے عبادت اور دعا کے ذریعے اللہ سے کامیابی اور رحمت طلب کی۔ امید ہے اللہ آپ کو اس سے بہتر عطا فرمائے گا۔ دوسری طرف نوروز کی خوشی ہے جو تازگی اور نئی زندگی کی علامت ہے۔

یہ پہلا سال ہے جب ہمارے شہداء ہمارے درمیان نہیں ہیں، جس سے دل غمگین ہیں۔ اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ زندگی کے معمولات جاری رہنے چاہئیں، شادی بیاہ اور میل ملاقات بھی ہوں، البتہ شہداء کے خاندانوں کا احترام ملحوظ رکھا جائے۔

اس موقع پر میں ان تمام افراد کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو مشکل حالات میں بھی معاشرے کی خدمت کر رہے ہیں، خصوصاً وہ لوگ جو بلا معاوضہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔

دشمن کا ایک محاذ میڈیا وار ہے، جو عوام کے ذہنوں کو متاثر کر کے قومی اتحاد کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ اس لیے میڈیا اور عوام کو چاہیے کہ اختلافات کو ہوا نہ دیں۔

دشمن کی ایک امید ہماری معاشی کمزوریاں ہیں۔ اس لیے معیشت کو مضبوط بنانا، عوام کی زندگی بہتر کرنا اور خود انحصاری حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ اسی بنیاد پر اس سال کا نعرہ "مقاومتی معیشت" رکھا گیا ہے۔

خارجہ پالیسی کے حوالے سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات پر زور دیا گیا۔ خصوصاً پاکستان اور افغانستان سے اپیل کی گئی کہ وہ باہمی تعلقات بہتر بنائیں۔ اسی طرح ترکیہ اور عمان پر ہونے والے حملوں کی تردید کی گئی اور انہیں دشمن کی سازش قرار دیا گیا۔

آخر میں دعا کی گئی کہ یہ سال قوم اور تمام مسلم ممالک کے لیے کامیابی، ترقی اور برکتوں کا سال ہو اور دشمنوں کے لیے ناکامی کا باعث بنے۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سیدمجتبی حسینی خامنه‌ای  

نظرات بینندگان
captcha