
ایکنا نیوز- ماضی کی جنگیں عموماً ممالک کی سرحدوں تک محدود ہوتی تھیں، لیکن آج کی جنگیں جغرافیائی حدود سے باہر نکل چکی ہیں اور جنگ کا منظرنامہ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ اب ہر فرد اس جنگ میں کسی نہ کسی طور شریک ہے، اور اگر کوئی واقعہ پیش آتا ہے یا بمباری ہوتی ہے تو اس کے اثرات تمام لوگوں پر پڑتے ہیں۔
سورۂ توبہ کی آیت 120 مختلف اقسام کی مجاہدات اور ان کے اجر کی طرف اشارہ کرتی ہے: «ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لَا يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَ لَا نَصَبٌ وَلَا مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ» (توبه: 120).
آج کے حالات میں اس آیت کا اطلاق عوام کی متعدد جدوجہد پر ہوتا ہے:
وہ عام لوگ جو اس راہ میں پیاس، بھوک، تکلیف اور سختیوں کا سامنا کرتے ہیں۔
وہ انقلابی عوام جو میدانوں میں جمع ہو کر یا سڑکوں پر مارچ کر کے ایسے راستے پر قدم رکھتے ہیں جو کفار کو غصہ دلاتا ہے۔
وہ مجاہدین جو میدانِ جنگ میں دشمن کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان کے ہر عمل کا اجر و ثواب محفوظ فرماتا ہے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ جبرائیلؑ نے رسولِ اسلام ﷺ کو خبر دی کہ جو بھی آپ کی امت میں سے اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلے، اور اس پر بارش کا ایک قطرہ بھی گرے یا اسے سر درد ہو جائے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے شہادت کا اجر لکھ دیتا ہے۔
لہٰذا ہر شخص اپنے اپنے مقام پر مجاہدہ کر سکتا ہے؛ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جو میزائلوں کی گرج یا دفاعی نظام کی آوازوں سے خوف اور اضطراب کا شکار ہوتے ہیں، اگر صبر اور ثابت قدمی سے ان حالات کو برداشت کریں تو وہ بھی شہداء کے اجر میں شریک ہو سکتے ہیں۔