استاد قطریونیورسٹی: امریکہ مزید ایک سپر پاور نہیں رہا

IQNA

الجزیره چینل پر بحث

استاد قطریونیورسٹی: امریکہ مزید ایک سپر پاور نہیں رہا

13:59 - April 04, 2026
خبر کا کوڈ: 3520113
محمد المسفر، قطر یونیورسٹی میں پولیٹکل سائنس کے استاد نے کہا : یہ ہماری جنگ نہیں بلکہ امریکی اور صہیونی جنگ ہے؛ امریکہ کوئی ایسا سپر پاور نہیں جو ہمارے ساتھ کھڑا ہو۔

ایکنا نیوز- سوشل میڈیا پر عرب صارفین کا کہنا ہے کہ الجزیرہ کے اسٹوڈیو میں جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔ ڈاکٹر المسفر کے یہ بیانات ایسے تھے کہ شاید اب انہیں دوبارہ اس نیٹ ورک پر نہ دیکھا جائے!

کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کوئی شخص خاموشی کے ماحول میں سچ کو بم کی طرح پھینکے؟ اور کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کوئی دانشور اپنی پوری زندگی کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دے، صرف اس لیے کہ وہ ایک ایسے گناہ کے خلاف آواز اٹھائے جس کی قیمت پوری خطے کی قومیں چکا سکتی ہیں؟

ایک "تاریخی" قرار دی گئی انٹرویو میں، احمد طه، الجزیرہ کے میزبان، نے قطر یونیورسٹی کے پروفیسر محمد المسفر کی میزبانی کی۔

رپورٹس کے مطابق، یہ انٹرویو جلد ہی اس نیٹ ورک کے پلیٹ فارمز سے حذف کر دیا گیا، کیونکہ اس میں ایسی باتیں کی گئیں جو حکام کے مطابق تمام "سرخ لکیروں" کو عبور کرتی تھیں اور ایسے موضوعات چھیڑے گئے جنہیں بیان کرنے کی بہت سے تجزیہ کاروں میں ہمت نہیں تھی۔

اہم نکات:

زندگی بھر کا گناہ: ہمارے گھر شیشے کے ہیں، اس لیے پتھر نہ پھینکیں!

جب خلیج فارس کے ممالک کی ایران کے خلاف امریکہ کے ساتھ تعاون پر سوال کیا گیا تو محمد المسفر کا جواب بجلی کی طرح تھا: اگر خلیجی ممالک اس جنگ میں داخل ہوئے تو وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کریں گے!

ہم ایسی قومیں ہیں جن کے گھر اور عمارتیں شیشے کی ہیں، اور ہماری بقا پانی صاف کرنے والے پلانٹس پر منحصر ہے۔ ان پر ایک حملہ ہمارے علاقوں میں انسانوں، جانوروں اور نباتات کے خاتمے کے مترادف ہوگا۔

یہ ہماری جنگ نہیں

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف اس جنگ میں کسی بھی قسم کی مداخلت خلیجی عرب ممالک کے لیے ایک بڑی اور ناقابلِ تلافی غلطی ہوگی۔ انہوں نے عرب رہنماؤں کو نصیحت کی کہ وہ اس جنگ میں شامل نہ ہوں کیونکہ یہ ان کی جنگ نہیں بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ہے۔

انہوں نے کہا: یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جو امریکہ اور صہیونی رژیم نے ایران کے خلاف شروع کی ہے۔ ہم کیوں خود کو اس آگ میں جھونکیں جو دوسروں نے بھڑکائی ہے؟

کیا آپ واقعی ایران سے ٹکرانا چاہتے ہیں؟ کیا آپ جانتے ہیں ایران کون ہے؟ ایک ایسی قوم جس کی تاریخ، جغرافیہ اور تہذیب ہے، جسے آسانی سے شکست نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے گزشتہ 40 سالوں میں اپنی صلاحیتیں بڑھائی ہیں، جبکہ ہم اب تک ایک آزاد فوجی طاقت قائم نہیں کر سکے۔

دوہرا معیار

ڈاکٹر محمد المسفر نے ایران کے اسرائیل پر حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عرب ممالک شیشے کی مانند ہیں، اور اگر ان پر ایسا ہی حملہ ہوا تو شدید نقصان ہوگا۔

انہوں نے حیرت سے سوال کیا: ہم نے شروع سے ہی ایران پر ہونے والی جارحیت کی مذمت کیوں نہیں کی؟

ہم نے یوکرین میں روس کی مذمت کی، لیکن جب ایران میں ہزاروں شہری مارے گئے تو ہم خاموش کیوں رہے؟

لبنان ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا ہے، شام بکھر چکا ہے، اور فلسطین، عزت کی سرزمین - ہماری آنکھوں کے سامنے بدترین ناانصافی کا شکار ہے، مگر کوئی حقیقی عرب مذمت کیوں نہیں؟

انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک جنگ کو بھلانے کے لیے دوسری جنگ شروع کر دیتا ہے، اور اس وقت اکثر عرب ممالک خود عدم استحکام کا شکار ہیں، اس لیے ایران سے ٹکر لینا غیر عقلی ہوگا، خاص طور پر جب ایران کے ساتھ تاریخی اور جغرافیائی مشترکات موجود ہیں۔

محمد المسفر نے واضح کیا: امریکہ ایسی سپر پاور نہیں جو ہمارے ساتھ کھڑی ہو۔ اس کا اتحادی (صہیونی رژیم) واضح ہے، اور وہ کبھی بھی ایک متحد عرب قوت کو وجود میں آنے نہیں دے گا، کیونکہ ہماری وحدت اس کے مفادات کے خلاف ہے۔

میں خلیج تعاون کونسل کے ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پراکسی جنگوں کو مسترد کریں۔

انہوں نے آخر میں کہا: میری باتیں ایران سے محبت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنے ملک، اپنی قوم اور اپنی تاریخ سے محبت کی بنیاد پر ہیں۔

 4344073

نظرات بینندگان
captcha