میدان میں عوام کی موجودگی؛ قرآن میں امر جامع کا مصداق

IQNA

صہیونیوں سے جنگ کا تجزیہ قرآن کے رو سے/ 19

میدان میں عوام کی موجودگی؛ قرآن میں امر جامع کا مصداق

13:02 - April 05, 2026
خبر کا کوڈ: 3520115
قرآنِ کریم میں «امرِ جامع» سے مراد ہر وہ اہم کام ہے جس کے لیے باہمی تعاون اور عوام کی شرکت ضروری ہو، اور کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ قیادت کی اجازت کے بغیر میدان چھوڑ دے۔

ایکنا نیوز- جنگِ خندق کے دوران، جب نبیِ اکرم ﷺ مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ خندق کھودنے میں مصروف تھے، تو منافقین موقع پاتے ہی چپکے سے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے تھے۔ جبکہ سچے مومن نبی ﷺ سے اجازت طلب کرتے اور کام ختم ہوتے ہی واپس آجاتے تھے۔

قرآنِ کریم سورۂ نور کی آیت 62 میں پہلے گروہ کی مذمت کرتے ہوئے فرماتا ہے: «إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَى أَمْرٍ جَامِعٍ لَمْ يَذْهَبُوا حَتَّى يَسْتَأْذِنُوهُ».

ترجمہ: بے شک مومن تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، اور جب وہ کسی اجتماعی کام میں رسول کے ساتھ ہوتے ہیں تو اس وقت تک نہیں جاتے جب تک ان سے اجازت نہ لے لیں۔

«امرِ جامع» سے مراد ہر وہ اہم کام ہے جس میں لوگوں کا اجتماع اور باہمی تعاون ضروری ہو۔ لہٰذا ہر ایسا اہم کام جس کے حل کے لیے قیادت تمام مومنین کی موجودگی کو ضروری سمجھے، اس میں کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ بغیر اجازت میدان چھوڑ دے۔

اس کے بعد فرمایا: «إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ أُولَئِكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَنْ لِمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ». ترجمہ: بے شک جو لوگ آپ سے اجازت مانگتے ہیں، وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ پھر جب وہ اپنے کسی کام کے لیے آپ سے اجازت طلب کریں تو آپ جسے چاہیں اجازت دے دیں اور ان کے لیے اللہ سے مغفرت طلب کریں، بے شک اللہ بڑا بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔

یہ آیت اس بات پر زور دیتی ہے کہ ایمان اور ولیِ خدا سے اجازت لینا ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ آیت میں «شأنهم» (ان کے کام) سے مراد وہ امور ہیں جو واقعی اہمیت رکھتے ہوں۔

نبی اکرم ﷺ بھی حالات کے مختلف پہلوؤں اور افراد کی موجودگی کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اجازت دیتے تھے۔ اگرچہ ایسے افراد کو اجازت حاصل ہوتی تھی، لیکن اجتماعی کام پر ذاتی کام کو ترجیح دینے اور ایک طرح کی ترکِ اولیٰ کی وجہ سے انہیں مغفرت اور رحمت کی ضرورت رہتی ہے۔

اسلامی ایران میں «امرِ جامع» کی ایک مثال عوام کی شاندار سڑکوں پر موجودگی ہے، جس نے دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنایا اور میدان میں موجود مجاہدین کے حوصلے بلند کیے ہیں، اور بلا عذر اس میں عدم شرکت جائز نہیں۔

نظرات بینندگان
captcha