
ترجمانِ وحی ثقافتی ادارے کے رکن مصطفیٰ نقدی نے ایکنا سے گفتگو کرتے ہوئے اس ادارے کی 1373 (ایرانی شمسی سال) سے جاری سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ اس مقصد کے تحت قائم کیا گیا تھا کہ قرآن کے ایسے تراجم پیش کیے جائیں جو واضح، دقیق اور ماضی کی عام غلطیوں سے پاک ہوں۔ ہمارا زور اس بات پر ہے کہ تراجم شیعہ زاویۂ نظر کے ساتھ اور ایسے مترجمین کے ذریعے کیے جائیں جو مبدأ اور مقصد دونوں زبانوں پر مکمل دسترس رکھتے ہوں۔
انہوں نے ادارے کی کامیابیوں کی وضاحت کرتے ہوئے مزید کہا کہ اب تک قرآن کے تراجم انگریزی، فرانسیسی، عثمانی، آذربائجانی ترکی، استنبولی ترکی، چینی، جاپانی، اردو، روسی، جارجیائی، عراقی ترکی، پشتو، روانڈائی اور بلتی زبانوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی دیگر زبانوں میں قرآن کے ترجمے کا عمل بھی جاری ہے۔
نقدی نے مزید بتایا کہ ادارے کا ایک تخصصی مجلہ بھی شائع ہوتا ہے جس کا نام "ترجمانِ وحی" ہے، جو ششماہی بنیادوں پر جاری کیا جاتا ہے اور اس میں قرآن کے ترجمے کے ادب سے متعلق جدید نظریات مختلف زبانوں میں پیش کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اس ادارے کے پاس ایک تخصصی کتب خانہ موجود ہے جس میں قرآن کے مختلف زبانوں میں تقریباً چھ ہزار تراجم موجود ہیں۔ یہ کتب خانہ ایک قیمتی ذخیرے کے طور پر ترجمے کے عمل کے ساتھ ساتھ فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
4343711